الیکشن سے قبل روپے کی قدر میں کمی نے معاشی خدشات پیدا کردیے

پاکستانی کرنسی 7 ماہ میں تیسری مرتبہ 3.8 فیصد کم ہوئی، سنٹرل بنک،تاجر برادری نگراں حکومت کے پاس الیکشن کی باگ ڈور سنبھالنے کی ذمہ داری ہے جس کی وجہ سے انہیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے،ناموراکانومسٹ اشفاق احمد خان

پیر جون 21:13

الیکشن سے قبل روپے کی قدر میں کمی نے معاشی خدشات پیدا کردیے
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) سینٹرل بینک اور تاجروں کے مطابق پاکستانی کرنسی 7 ماہ میں تیسری مرتبہ 3.8 فیصد کم ہوئی جو بعد میں بتدریج بحالی کی طرف بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔۔عید الفطر سے قبل اور عام انتخابات کے قریب آتے ہی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے صارفین کے خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے۔روپے کی قدر میں گراوٹ ملک کی 3 سو ارب ڈالر کی معیشت میں تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زر مبادلہ اور مالی خسارے میں اضافہ ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے 2013 کے بعد دوسری مرتبہ انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنا پڑسکتا ہے۔

نامور اکانومسٹ اشفاق احمد خان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے پاس الیکشن کی باگ ڈور سنبھالنے کی ذمہ داری ہے جس کی وجہ سے انہیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کو در آمدات کو کم کرنے اور بر آمدات کو بڑھانے کے لیے پالیسی فیصلے کرنا ہوں گے تاہم نگراں حکومت نے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی طور پر روپے کی قدر میں گراوٹ پر انحصار کریں گے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

خیال رہے کہ دسمبر کے مہینے سے اب تک روپے کی قدر میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔تاجروں کے مطابق پیر کے روز روپے کی قدر کا آغاز 115.63 روپے سے ہوا جس کا اختتام 119.85 روپے پر ہوا جبکہ درمیان میں اس کی قیمت 121 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت میں رواں سال شرح نمو کا حدف 6 فیصد رکھا گیا ہے جو اس دہائی میں سب سے تیزی سے بڑھنے کی شرح ہے تاہم بڑھتے ہوئے خسارے نے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے مطابق پاکستان کا موجودہ مالی خسارہ 14 ارب ڈالر ہے۔