پاکستان سپر لیگ کو کس کام کے لیے استعمال نہ کریں ،وقار یونس نے بتا دیا

ڈومیسٹک مقابلوں پرتوجہ دینا چاہیے،سرفراز کو ٹیسٹ میں رنزبنانا ہوں گے :سابق قائد

منگل جون 11:19

پاکستان سپر لیگ کو کس کام کے لیے استعمال نہ کریں ،وقار یونس نے بتا دیا
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون2018ء) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وقار یونس نے پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی )کو مشورہ دیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹرز پی ایس ایل سے نہ ڈھونڈے جائیں، ان کے مطابق کرکٹ بورڈ کو ڈومیسٹک مقابلوں پر بھی توجہ دینا چاہیے۔ایک انٹرویو میں وقار یونس نے کہاکہ نیا ٹیلنٹ سامنے لانے کے حوالے سے پی ایس ایل کو سراہا جا نا چاہیئے،اس ایونٹ سے پاکستان کو کسی خوف کے بغیر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے کرکٹرز شاداب خان، حسن علی اور فہیم اشرف بھی ملے البتہ ٹیسٹ پلیئرز تیار کرنے کے لیے پی سی بی کو ڈومیسٹک کرکٹ کی بھی قدر کرنی چاہیے کیوں کہ سہولیات کا معیار کئی دیگر ملکوں سے کم ہونے کے باوجود گذشتہ 70سال میں پاکستان کو زیادہ ٹیلنٹ یہیں سے حاصل ہوا،ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دی جائے تو مزید بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم میں ناتجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی اور آل راﺅنڈرز پر مشتمل کمبی نیشن ہونے کی وجہ سے نمبر 6پر سرفراز احمد کی کارکردگی بہت اہمیت رکھتی ہے،قومی ٹیم کے کپتان بطور بیٹسمین محدود اوورز کی کرکٹ میں تو اچھا پرفارم کررہے ہیں لیکن ٹیسٹ میچز میں توقعات پر پورا نہیں اتر رہے،فی الحال تینوں فارمیٹ کے لیے ان سے زیادہ موزوں اور کوئی نہیں لیکن لیکن ان کا متبادل بھی نظروں میں رکھنے اور گروم کرنے میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔

وقار یونس کا مزید کہنا تھا کہ فاسٹ باﺅلر شاہین شاہ آفریدی بہت کم عمری میں انٹرنیشنل کرکٹ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں،ہمیں پیسر کو محتاط انداز میں آزمانا چاہیے،بہتر ہوتا کہ انھیں پہلے سینئر کرکٹ کے لیے گروم کیا جاتا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز کے علاقوں سے بھی نیا ٹیلنٹ سامنے آتا رہے،مجھ سمیت مشتاق احمد اور محمد عرفان بھی پسماندہ علاقوں سے ہی سامنے آئے تھے۔