نواز شریف اور ان کے وکیل خواجہ حارث احتساب عدالت میں سب کے ساتھ ہاتھ کر گئے

یہ نوازشریف نے بہت زبردست کھیل کھیلا ہے ، وہ مقدمے کو کھینچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں،اس طرح وہ الیکشن کا ٹائم بھی گزار جائیں گے اور الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم بھی دیں گے، معروف صحافی ندیم ملک کا خواجہ حارث کے کیس کی پیروی سے انکار پر تبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 11:40

نواز شریف اور ان کے وکیل خواجہ حارث احتساب عدالت میں سب کے ساتھ ہاتھ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔11جون 2018ء) سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایون فلیڈ ریفرنس میں نواز شریف کے کیس کی مزید پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ نگار ندیم ملک کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ میرامقدمہ تو احتساب عدالت میں ہے لیکن اس کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں۔

ان مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں ہونا تھا لیکن چھ ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ نہ ہو سکا اور پھر ایک ایک مہنیہ کر کے تا خیر کا شکار ہوتا گیا۔کسی حد تک دیکھیں تو نواز شریف کی حکمت عملی کامیاب ہو گئی ہے۔۔نواز شریف کو سپریم کورٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ احتساب عدالت میں کامیاب رہے،ندیم ملک سپریم کورٹ میں اپنے دفاع میں کچھ پیش نہ کر سکے۔

(جاری ہے)

ایک قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کیا گیا جس کی وجہ سے نواز شریف کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔اور اس کے اوپر لوگ ہنستے رہے اور پھر جو قومی اسمبلی میں پہلے دن تقریر کی اس میں پہلے دن ہی یہ دعوی کر دیا کہ میں تو دس ارب کا ٹیکس دیتا ہوں۔تو نواز شریف نے ایسی بہت سی غلطیاں کی ہیں جس کی ان کو سزا ملی ہے۔لیکن احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بہت مہارت دکھائی ہے۔

وہ جتنا اس کیس کو کھینچ سکتے تھے انہوں نے کھینچا جب کہ نیب میں جو بھی گواہ پیش ہوئے ان پر بھی خواجہ حارث نے خوب جرح کی۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سات آٹھ ماہ گزر گئے اور عام انتخابات میں ڈیڑھ ماہ رہ گیا ہے اور خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا ہے۔یہ نوازشریف نے بہت زبردست کھیل کھیلا ہے ۔ کیونکہ نیا وکیل کرنے میں بہت وقت لگے گا  جس میں الیکشن بھی گزر جائیں گے تو سیاسی طور پر نواز شریف نے بہت اچھا کھیل کھیلا ہے۔اور نواز شریف کی کامیابی یہ ہے کہ وہ انتخابی عمل سے گزر جائیں گے۔اور پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا بلکہ ممکن ہے کہ ن لیگ تحریک انصاف پر بر تری لے جائے۔