اقتدارچلا گیا لیکن شاہ خرچیاں نہ گئیں

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گورنر ہاؤس مری کے لیے دو کروڑ روپے کے قالین خرید لیے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 12:52

اقتدارچلا گیا لیکن شاہ خرچیاں نہ گئیں
مری (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2018ء) : سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی شاہ خرچیوں اور ان کی شاہانہ طرززندگی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے ہاتھوں سے اقتدار تو چلا گیا لیکن ان کی شاہ خرچیوں کی عادت تاحال نہیں گئی۔ نواز شریف نے گورنر ہاؤس مری کے لیے دو کروڑ روپے کے قالین خرید لیے۔قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ نواز شریف کی خواہش پر گورنر ہاؤس مری کے لیےدبئی میں ایک کروڑ 90 لاکھ کے خریدے گئے ۔

اعلیٰ قالینوں کی پنجاب حکومت نے ادائیگی نہ کی جس سے پاکستانی قونصل جنرل کو مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ قالین سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر فروری ، مارچ 2017 ء میں اس یقین دہانی پر خریدے گئے تھے کہ پنجاب حکومت ادائیگی کردے گی۔

(جاری ہے)

روزنامہ 92 نیوز کی تحقیقات اور ڈاکومنٹس کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر ایوان وزیر اعظم سے 28 فروری 2017 کو قونصل جنرل دبئی کو زبانی احکامات دیئے کہ وہ گورنر ہاؤس مری کے لیے اعلیٰ کوالٹی کے قالین کی خریداری کرے ۔

قونصل جنرل کو ایوان وزیر اعظم سے مزید احکامات دیئے گئے کہ قالینوں کی اشد ضرورت ہے تاہم قونصل جنرل ان قالینوں کی خریداری پر آنے والے اخراجات اپنے سرکاری فنڈز سے ادا کردئیے اور پنجاب حکومت بعد میں کونسل جنرل کو ادائیگی کردے گی۔ ایوان وزیر اعظم کے احکامات کی روشنی میں قونصل جنرل دبئی نے ایک لاکھ 61 ہزار420 ڈالر مالیت کی قالین خریدے اور اپنے سرکاری فنڈز سے ان کی قیمت کی ادائیگی کردی تھی۔

جولائی 2017 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اقامہ رکھنے پر نا اہل کردیا اور قونصل جنرل نے قالینوں کی قیمت کی ادائیگی کے لیے بار بار وزارت خارجہ کو خط تحریر کئے لیکن ادائیگی اب تک نہ ہوسکی۔ اب ایک بار پھر قونصل جنرل کی درخواست پر وزارت خارجہ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ایک لاکھ 61 ہزار420 ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ پنجاب حکومت بینکنگ چینل کے ذریعہ دبئی میں قونصل جنرل کے یونائٹیڈ بینک لمیٹڈ کے اکاؤنٹ نمبر090701000372 میں فوری طور پر ادائیگی کریں۔

وزارت خارجہ نے پنجاب حکومت کو قالینوں کی خریداری کی رسیدیں، کارگو ڈاکومنٹس اور فریٹ چارجز بھی بھجوائے ہیں۔ پنجاب حکومت ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ یہ ادائیگی کرنے سے قاصر ہے کیونکہ قالین خریدنے کے لیے متعلقہ پیپرا رولز پر عمل نہیں کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے اگر ادائیگی کرنا ہوتی تو اس کو ضمنی بجٹ میں شامل کرلیا جاتا جو مئی میں 85 ارب 60 کروڑ کا پاس کیا گیا ۔

اب چونکہ صوبہ میں نگران حکومت ہے اور وہ یہ ادائیگی نہیں کرسکتی۔ اب قالینوں کی قیمت کی ادائیگی احکامات جاری کرنےوالوں کو کرنا ہوگی۔وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس مری کی تزہین و آرائش پر 60 کروڑ کے فنڈز سرکاری خزانہ سے لگائے گئے تھے جس سے گولڈن ٹائیلٹ بھی بنایا گیا تھا۔ گورنر ہائوس میں 8 وی وی آئی پی بیڈ رومز، ڈائنگ روم، باتھ رومز،میٹنگ رومز اور سرسبز لان ہیں۔ نواز شریف کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی حکومت کے آخری سال کی گرمیوں میں گورنر ہاؤس مری سے حکومتی امور چلائیں گے لیکن نااہل ہونے کی وجہ سے یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔پروٹوکول کے حساب سے صدر، وزیر اعظم، گورنر اور انکے ہم پلہ عہدے کے افراد گورنر ہاؤس میں سکونت اختیار کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔