سعودی عرب: سعودی عرب کا منفرد فیشن شو شدید تنقید کی زد میں

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے چٹکلوں اور طنز آمیز فقروں کی بوچھاڑ

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 13:03

سعودی عرب: سعودی عرب کا منفرد فیشن شو شدید تنقید کی زد میں
ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12جُون 2018ء) آپ لوگوں نے بہت سے فیشن شوز دیکھے ہوں گے جن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی دراز قد اور حسین و جمیل دوشیزائیں ریمپ پر خوبصورت پیرہن میں ملبوس اِٹھلاتی‘ بل کھاتی ‘ مسکراتی‘ اور دیکھنے والوں کے دِل و دماغ پراپنے حُسن کی بجلیاں گِراتی دکھائی دیتی ہیں۔ مگر سعودی عرب میں ایک ایسا منفرد فیشن شو منعقد ہوا ہے جس میں انٹرنیشنل کمپنیوں کے لباس تو دکھائی دے رہے تھے مگر اُن لباسوں کو پہننے والی خواتین ماڈلز کا وجود غائب تھا۔

سوشل میڈیا پر اس فیشن شو کی ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہو گئی ہے اور لوگوں کے لیے تفریح طبع اور مذاق کا موضوع بن کر رہ گئی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے لباس نہیں بلکہ گھوڑے سرپٹ دوڑتے آ رہے ہوں۔

(جاری ہے)

ایونٹ کے منتظمین کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے کی حُرمت کے باعث لباسوں کی نمائش کے لیے خواتین کی بجائے ان لباسوں کو ڈرونز کی مدد سے ریمپ پر حرکت کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں فیشن شو کے انعقاد کے لیے دُنیا بھر کے مقابلے میں مختلف قسم کے قواعد و ضوابط لاگو ہیں۔ ریاض میں ہونے والے اس فیشن میں صرف خواتین کو ہی شرکت کی اجازت تھی۔ جبکہ ان لباسوں کو تیار کرنے والے مرد ڈیزائنروں کو بھی بیک سٹیج موجود ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ مگر خواتین کے سامنے بھی خواتین ماڈلز کو لانے کی بجائے چہروں اور جسمانی پیکر سے آزاد ہوا میں تیرتے لباس چلتے پھرتے آسیب اور بھُوت معلوم ہو رہے تھے۔

ٹویٹر پر اس فیشن شو کو بھُوتوں کا فیشن شو قرار دیا گیا۔ جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یہ بھُوتوں پر مبنی کوئی فلم ہو۔ سوشل میڈیا کے قدامت پرست صارفین کا کہنا تھا کہ یہ فیشن شو سعودی ولی عہد کی نام نہاد ’آزاد روی‘ پر مبنی اصلاحات کو نافذ کرنے کی ایک کڑی تھی۔ جبکہ دُوسری جانب اصلاحات کے حامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیشن شو یہ پیغام دیتے ہیں کہ خواتین کو ریمپ پر واک کے دوران اٹھلانے بل کھانے کی بجائے اپنا وقت زیادہ بہتر سرگرمیوں میں استعمال کرنا چاہیے۔