نیب ریفرنسز ،ْنواز شریف وکیل کے بغیر عدالت میں پیش ،ْ

وکیل مقرر کرنے کیلئے 19 جون تک کی مہلت آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہی ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی ،ْ جج خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں کہہ دیا تھا ہفتہ، اتوار کو کام نہیں کریں گے ،ْنوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہدایات عدالت کے لیے تھیں ،ْ پراسیکیوشن یا وکیل صفائی کیلئے نہیں ،ْڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سپریم کورٹ کے حکم نامے میں 4 ہفتوں کا کہا گیا ہے ،ْ ہفتے کو سماعت کا اختیار احتساب عدالت کو دیا گیا ،ْجج محمد بشیر اس عدالت پر چھوڑا ہے تو انہیں 4 ہفتوں کا بھی نہیں کہنا چاہیے ،ْنوازشریف

منگل جون 13:46

نیب ریفرنسز ،ْنواز شریف وکیل کے بغیر عدالت میں پیش ،ْ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنے خلاف نیب ریفرنسز کی پیروی کی غرض سے وکیل مقرر کرنے کے لیے 19 جون تک کی مہلت دے دی۔ منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور ایون فیلڈ نیب ریفرنسز کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نوازشریف اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں۔

سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے نواز شریف سے استفسار کیا کہ آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہی ساتھ ہی جج نے کہا کہ ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔جس پر نواز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں، ایک وکیل نے کیس پر 9 ماہ محنت کی ہے۔

(جاری ہے)

سابق وزیراعظم نے کہا کہ خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں کہہ دیا تھا کہ وہ ہفتہ، اتوار کو کام نہیں کریں گے ہم تو روز لاہور سے آتے ہیں اور سحری کرکے عدالت کے لیے روانہ ہوتے ہیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ اب کیا24/7 کیس چلانا ہی کیا ایسی کوئی اور مثال ہی نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 100 کے قریب پیشیاں ہو چکی ہیں۔۔مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرحلے پر نیا وکیل مقرر کرنا ممکن نہیں۔انہوںنے کہاکہ ہفتے اور اتوار کو یا عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد سماعت نہیں ہونی چاہیے، ہم پیر سے جمعہ تک اس عدالت میں پیش ہو رہے ہیں، اس وجہ سے سپریم کورٹ سے میرا ایک کیس عدم پیروی پر خارج ہوگیا جبکہ شرجیل میمن کیس میں ایک ملزم کا وکیل ہوں اور عدالت میں پیش نہ ہونے پر مجھ پر جرمانہ ہوا۔

سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ 'آج ایون فیلڈ میں وکیل صفائی کے حتمی دلائل کے لیے کیس مقرر تھا، خواجہ حارث کا ایسے وقت میں دستبردار ہونا مناسب نہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہدایات عدالت کے لیے تھیں، پراسیکیوشن یا وکیل صفائی کیلئے نہیں۔سردار مظفر عباسی نے جج احتساب عدالت کو مخاطب کرکے کہا کہ وکلاء صفائی یا ہم آپ کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتے، کورٹ کو آپ کو ریگولیٹ کرنا ہے۔

سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ ابھی توسپریم کورٹ کا آرڈر بھی نہیں ملا، عدالت ہفتے اتوار کو سماعت چلانے پر زور دیتی تو وہ اپنے تحفظات عدالت کو بتا سکتے تھے جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ تھوڑی دیر بیٹھ جاتے ہیں اور سپریم کورٹ کے آرڈر کی کاپی منگوا کر پہلے اسے پڑھ لیتے ہیں اس کے ساتھ ہی احتساب عدالت نے سپریم کورٹ کے آرڈر کی کاپی منگوالی۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامے میں 4 ہفتوں کا کہا گیا ہے اور ہفتیکو سماعت کا اختیار اس (احتساب) عدالت کو دیا گیا جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس عدالت پر چھوڑا ہے تو انہیں 4 ہفتوں کا بھی نہیں کہنا چاہیے جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ خواجہ صاحب خود ہی تو کہا کرتے تھے کہ وہ رات 8 بجے تک رک سکتے ہیں۔۔عدالت نے نواز شریف کو خواجہ حارث سے رابطے کیلئے وقت دے دیا اور کہا کہ خواجہ حارث سے فون پر بات کرلیں یا ملاقات کرکے آجائیں۔

سماعت کے بعد احتساب عدالت نے نواز شریف کو وکیل مقرر کرنے کیلئے 19 جون تک کی مہلت دے دی۔واضح رہے کہ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت بھی 19 جون کو ہی ہوگی ،ْجہاں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو طلب کیا گیا ہے۔دوسری جانب ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 14 جون تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف اور مریم نواز پرسوں کی سماعت پر بیشک پیش نہ ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عدالت سے اپنا وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔خواجہ حارث نے عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے اتوار (10 جون) کو سماعت کے دوران نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور یہ ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں، لہذا ان حالات میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔جس پر احتساب عدالت نے ملزم نواز شریف کو وکیل مقرر کرکے آج (12 جون) تک عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔