مسلم لیگ ن نے انتخابات پر اثرانداز ہونے کا منصوبہ بنا لیا

منصوبے کا مقصد الیکشن کے قریب عدالتی نظام پر شکوک وشبہات پیدا کرنا ہے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 13:31

مسلم لیگ ن نے انتخابات پر اثرانداز ہونے کا منصوبہ بنا لیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن نے انتخابات پر اثر انداز ہونے کا منصوبہ بنا لیا۔ مسلم لیگ ن کے اس منصوبے کا مقصد انتخابات کے دوران عدالتی نظام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا ہوگا۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے وکیل کی دستبرداری اور نئے وکیل کی عدم دستیابی عدالتی فیصلے میں ایک رکاوٹ ہے ۔

ن لیگ چاہتی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ الیکشن کی تاریخ کے قریب آئے۔ مسلم لیگ ن کے اس منصوبے کا مقصد انتخابات کے دوران عدالتی نظام پر شکوک وشبہات پیدا کرنا ہے ۔ نوازشریف کا لندن جانا ٹرائل کو طول دینے کی حکمت عملی ہے ۔ نوازشریف نے فوج کی تعیناتی کے ٹی اوآرز پر اعتراض کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے ۔

(جاری ہے)

پارٹی کے چند سینئر رہنماؤں نے اس حوالے سے کسی قسم کا موقف دینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مقدمے کی مزید پیروی کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ نگار ندیم ملک کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ میرا مقدمہ تو احتساب عدالت میں ہے لیکن اس کی ڈوریں سپریم کورٹ سے ہلائی جا رہی ہیں۔ ان مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں ہونا تھا لیکن چھ ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ نہ ہو سکا اور پھر ایک ایک مہنیہ کر کے تا خیر کا شکار ہوتا گیا۔

کسی حد تک دیکھیں تو نواز شریف کی حکمت عملی کامیاب ہو گئی ہے۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ احتساب عدالت میں کامیاب رہے،ندیم ملک سپریم کورٹ میں اپنے دفاع میں کچھ پیش نہ کر سکے۔ ایک قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کیا گیا جس کی وجہ سے نواز شریف کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔اور اس کے اوپر لوگ ہنستے رہے اور پھر جو قومی اسمبلی میں پہلے دن تقریر کی اس میں پہلے دن ہی یہ دعوی کر دیا کہ میں تو دس ارب کا ٹیکس دیتا ہوں۔

تو نواز شریف نے ایسی بہت سی غلطیاں کی ہیں جس کی ان کو سزا ملی ہے۔لیکن احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بہت مہارت دکھائی ہے۔وہ جتنا اس کیس کو کھینچ سکتے تھے انہوں نے کھینچا جب کہ نیب میں جو بھی گواہ پیش ہوئے ان پر بھی خواجہ حارث نے خوب جرح کی۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سات آٹھ ماہ گزر گئے اور عام انتخابات میں ڈیڑھ ماہ رہ گیا ہے اور خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا ہے۔

یہ نوازشریف نے بہت زبردست کھیل کھیلا ہے ۔ کیونکہ نیا وکیل کرنے میں بہت وقت لگے گا  جس میں الیکشن بھی گزر جائیں گے تو سیاسی طور پر نواز شریف نے بہت اچھا کھیل کھیلا ہے۔اور نواز شریف کی کامیابی یہ ہے کہ وہ انتخابی عمل سے گزر جائیں گے۔اور پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا بلکہ ممکن ہے کہ ن لیگ تحریک انصاف پر بر تری لے جائے۔ندیم ملک کی طرح غیر جانبدار سیاسی مبصرین نے بھی اسی موقف کی تائید کی اور کہاکہ نواز شریف اس طرح کے ہتھکنڈے آزما کر اپنے خلاف آنے والے فیصلے میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں، خواجہ حارث کا مقدمے کی پیروی سے انکار کرنا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے تاکہ فیصلے میں تاخیر ہو سکے۔