بجلی چوری کرنا جائز ہے

واپڈا کی مہربانیاں، کس طبقے کے کو کھلم کھلا بجلی چوری کی اجازت دیدیی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 13:59

بجلی چوری کرنا جائز ہے
جھنگ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2018ء) : ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 5050 میگا واٹ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ملک کے بیشتر حصوں میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گرمی کی شدت کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی چوری بھی کی جاتی ہے جس کے خلاف محکمہ واپڈا نے کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ تاہم اب محکمہ واپڈا کے ملازمین نے ہی ایک درخواست دائر کی ہے جس میں وکیلوں کو بجلی چوری کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس درخواست کی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں لکھا گیا کہ ملک بھر کے وکیلوں کو بجلی چوری کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ اس درخواست میں صاحب اقتدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وکیلوں کے لیے پورے پاکستان میں بجلی چوری کو جائز قرار دیا جائے تاکہ محکمہ واپڈا پریشانی سے بچ سکے۔

(جاری ہے)

ایس ڈی او گڑھ مہاراجہ سب ڈویژن نے بمعہ اپنی ٹیم محمد شفیع نامی وکیل کو 1/2 7 کی زرعی موٹر ڈائریکٹ چلاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

جس کا بیان حلفی بھی مذکورہ وکیل نے دفتر گڑھ مہاراجہ میں جمع کروادیا۔ لیکن بعد ازاں سول جج احمد پور سیال کے حکم پر ایس ڈی او نے بمعہ اپنی ٹیم موقع پر جا کر بجلی چالو کر دی اور اپنے خلاف ایف آئی آر کی کاپی مذکورہ وکیل سے وصول کی جس کی وجہ سے تاحال ایس ڈی او اور متعلقہ عملہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ نہ تو وہ کچہری آ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا موقف بیان کر سکتے ہیں۔

لہٰذا یونین ھٰذا کی اپیل ہے کہ وکیلوں کے لیے بجلی چوری کو جائز قرار دیا جائے۔تاکہ مستقبل میں محکمہ واپڈا اور اس کے ملازمین اس قسم کی پریشانی سے بچ سکیں۔ اس اپیل پر زونل چئیرمین واپڈا ہائیڈروروکرز یونین کے دستخط موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اس تصویر پر صارفین مضحکہ خیز تبصرے بھی کر رہے ہیں جبکہ وہیں وکیلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔