جیتنے والے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے; ن لیگ کے امیدوار فائنل کرنا چیلنج بن گیا

جنوبی پنجاب سے ن لیگ کو امیدوار ملنا مشکل ہو گیا ، کئی حلقے اوپن چھوڑکر جیتنے کے بعد ن لیگ میں شامل ہونے کی شرط پر آزاد امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ، قومی اخبار کی رپورٹ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 14:33

جیتنے والے تحریک انصاف کا حصہ بن گئے; ن لیگ کے امیدوار فائنل کرنا چیلنج ..
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 جون 2018ء) قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی کنفیوژن اور پارٹی ٹکٹوں کے حوالے سے گو مگو کا شکار پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے قومی وصوبائی اسمبلیوں میں امیدوار تلاش کرنا چیلنج بن گیا۔ذرائع کا دعوی ہے کہ ن لیگ کے پاس صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ہولڈروں کی تعداد ان گنت ہے۔جب کہ قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

پارٹی کے حالیہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں میں اس امر کو بخوبی دیکھا گیا ہے کہ 2017کے وسط اور رواں سال کے آغاز میں دو مخلتلف اداروں سے کیے جانے والے سروے کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ دئیے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے اپنے دور حکومت میں پنجاب کے ایک سرکاری اور ایک وفاقی انٹیلی جنس اداروں سے خفیہ طور ہر "جیتو امیدوار " سروے کروایا تھا۔

(جاری ہے)

اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثریت کی تعداد میں جیتنے والے ن لیگی پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جا چکے ہیں۔اور ان کے خلا کو پر کرنے کے لیے ن لیگ قائدین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ن لیگ کو جنوبی پنجاب کی طرف سے امیدواروں کی کمی کا سامنا ہے۔جس پر بعض نشستوں پر امیدوار کو ٹکٹیں دینے کی بجاےے اوپن چھوڑا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں اچھے آزاد امیدواروں کی پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں حمایت کی جائے گی۔

تا ہم ان سے یہ حلف لیا جائے گا کہ وہ جیت کی صورت میں ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔۔ن لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے اخری اجلاس چل رہے ہیں مگر تا حال ملک میں اور صوبائی سطح پر ٹکٹوں کی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ن لیگ اپنے خاص لیگیوں کو جتوانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر حلقے تبدیل کر رہی ہے۔