بھارت، خاتون آفیسر کا اعلی افسروں پر زیادتی اور صنفی ہراسگی کا الزام

ہریانہ میں گلاٹی نے اور انبالہ اور چنڈی گڑھ میں بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا

منگل جون 15:23

چندی گڑھ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) بھارت کے علاقے ہریانہ میں ایک خاتون آئی اے ایس آفیسر نے اعلی افسروں پر زیادتی اور صنفی ہراسگی کا الزام عائد کر دیا،ہریانہ کے مویشی پروری شعبہ کے کارگزار سیکریٹری سنیل گلاٹی نے ان کے ساتھ زیادتی کی، انبالہ اور چنڈی گڑھ میں بھی انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی علاقے ہریانہ کی خاتون آئی اے ایس افسرنے ریاست کے اعلی افسروں پر زیادتی اور صنفی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔

خاتون افسر نے کہا کہ ہریانہ کے مویشی پروری شعبہ کے کارگزار سیکریٹری سنیل گلاٹی نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔ انہوں نے کہا کہ گلاٹی کے علاوہ انبالہ اور چنڈی گڑھ میں جہاں بھی انہیں تعینات کیا گیا وہاں انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

حد تو یہ ہے کہ اعلی افسران کے علاوہ ڈرائیورو ں نے بھی غلط حرکتیں کیں۔وہ جب گاڑی میں جاتی تھیں تو ڈرائیور غیر اخلاقی حرکت سے باز نہیں آتے ۔

ان کی ایمانداری اور شرافت کی وجہ سے حساس مقامات پربھی ہراساں کیا جاتا تھا۔گلاٹی نے خاتون افسر کے الزامات کو بے بنیاد قراردیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی انہیں تنہا آفس میں نہیں بلایا۔ان کی تقرری چنڈی گڑھ کے سیکریٹریٹ میں ہوئی تھی۔ کوئی بھی افسر جب تعینات ہوتا ہے تو ابتدا میں اسے کام سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ میں نے انہیں کام احسن طریقے سے انجام دینے کی تربیت دی۔خاتون افسر نے کہا کہ گلاٹی نے میرے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا ، ڈرانے ، دھمکانے اور زیادتی کا ارتکاب کیا۔ اس کی اطلاع افسران بالا کودینے کے بعد گلاٹی کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں ۔

متعلقہ عنوان :