ابو ظہبی: غیر مُلکی باشندے رہیں ہوشیار

سات منی ایکسچینج ہاؤسز کے ذریعے پیسے بھیجنے سے خبردار کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 14:57

ابو ظہبی: غیر مُلکی باشندے رہیں ہوشیار
ابو ظہبی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کی جانب سے گزشتہ روز کچھ کرنسی ایکسچینج ہاؤسز کے لائسنس کی درجہ بندی میں تنزلی کر دی گئی ہے اور امارات میں مقیم افراد کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ ان کرنسی ایکسچینج ہاؤسز کی جانب سے رقم کی ترسیل نہ کریں کیونکہ یہ قواعد کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئی ہیں۔ وہ سات کمپنیاں جن کے لائسنس میں تنزلی کی گئی ہے ان میں طاہر ایکسچینج ‘ الہدا ایکسچینج‘ الحیمریا ایکسچینج‘ دُبئی ایکسپریس ایکسچینج‘ صنعاء ایکسچینج‘ کاسموس ایکسچینج اور بِن باخیت ایکسچینج شامل ہیں۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ایکسچینج ہاؤسز کو رقم کی ترسیل اور تنخواہوں کی ادائیگی کی کسی بھی قسم کی سرگرمی ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

یہ فیصلہ ان ایکسچینج ہاؤسز کی جانب سے اپنے سٹیٹس کو ریگولرائز کرنے میں ناکامی پر کیا گیا جس کے لیے انہیں مرکزی بینک کی جانب سے مخصوص مُدت کی رعایت دی گئی تھی۔ یہ ایکسچینج ہاؤسز منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی پائے گئے۔

بینک کی جانب سے امارات میں مقیم افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان کمپنیوں کی طرف سے رقوم کی ترسیل نہ کریں یا تنخواہیں نہ بھیجیں یہ کمپنیز اب صرف غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت اور ٹریولرز چیکس کے شعبوں میں ہی سرگرمی انجام دے سکتی ہیں۔ اس وقت متحدہ عرب امارات میں عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ اگلے چند دِنوں کے دوران غیر مُلکی باشندے اپنے آبائی ممالک میں بہت بری تعداد میں رقوم بھجوائیں گے۔

2017ء میں غیر ملکی باشندوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کی مد میں 164.3 ارب اماراتی درہم کی رقوم امارات سے باہر بھیجی گئی تھیں جبکہ 2016ء میں بھیجی جانے والی رقم 160.8 ارب اماراتی درہم کی تھی۔ امارات میں موجود فارن ایکسچینج اور ترسیلات زر کے کاروبار سے جُڑی کمپنیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عوام میں شعور بیدار کرنے اور خصوصی اقدامات کے باعث منی لانڈرنگ کے واقعات میں گزشتہ سالوں کی نسبت 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔