ایوب بھٹہ وساوا کو مسلم لیگ ن کی جانب سے 2 لاکھ روپے کا چیک موصول

مسلم لیگ ن نے 2 لاکھ روپے کا چیک دیا تو ایوب بھٹی نے گھر کا وعدہ بھی یاد دلادیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 15:46

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2018ء) : قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش میں مار کھانے والے مسلم لیگ ن کے کارکن ایوب بھٹہ وساوا کو مسلم لیگ ن کی جانب سے 2 لاکھ روپے کا چیک وصول ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایوب بھٹہ وساوا کو دو لاکھ روپے کا چیک مسلم لیگ ن کے نصیر آباد دفتر سے موصول ہوا۔ اس دفتر میں مسلم لیگ ن کے رہنما  خواجہ عمران نذیر اور پرویز ملک بیٹھتے ہیں۔

ایوب بھٹہ نے یہ رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ برائے مہربانی میرے گھر کا کچھ بندوبست کر دیں، جس پر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ گھر بھی ملے گا، فی الوقت آپ اپنا چیک استعمال کریں۔ جس کے بعد ایوب بھٹہ نے دو لاکھ روپے کی اس رقم سے اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو عمرے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

ایک چیک ایوب بھٹہ کی بیوی خدیجہ ایوب اور دوسرا چیک اس کی ساس کبریٰ بیگم کے نام پر ہے۔

ایوب بھٹہ نے بتایا کہ دو روز قبل میاں نواز شریف ایم این ایز اور ایم پی ایز کی نشستوں کے لیے انٹرویوز کر کے گھر سے باہر نکلے تو میں نے ان سے سوال کیا کہ میاں صاحب میرے گھر کا کیا بنا؟ جس پر انہوں نے مجھے ہاتھ کا اشارہ کیا اور کہا کہ آپ کا کام ہو جائے گا۔ایوب بھٹہ کا کہنا ہے کہ میں ابھی بھی گھر کے لیے اپیل کر رہا ہوں۔ایوب بھٹہ کی بیوی اور ساس نے گھر کے لیے درخواست دے رکھی تھی اسی لیے چیک بھی ان ہی کے نام پر آیا۔

خیال رہے کہ الحمرا میں ہونے والی یوم تکبیر کی ایک تقریب میں سابق وزیر اعظم و قائد پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے شرکت کی لیکن یوم تکبیر کی یہ تقریب اس وقت بد نظمی کا شکار ہوئی جب ایک مشکوک شخص نے نواز شریف کو اسٹیج پر جا کر ہاتھ ملانے کی کوشش کی ۔نواز شریف سے ہاتھ ملانے والے شخص کا انداز بہت مشکوک تھا۔

جس کے فوری بعد سیکورٹی پر مامور اہلکاروں نے مشکوک شخص کو پکڑ کر اس کی پٹائی کرنا شروع کر دی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ کوئی مشکوک شخص نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کا ایک دیرینہ کارکن ایوب بھٹہ تھا۔ ایوب بھٹ نے مار کھانے کے باوجود مسلم لیگ ن کے خلاف ایک بھی بیان نہیں دیا اور نواز شریف کے حق میں نعرے لگاتا رہا۔