اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی شہداء اور اسیران کی امداد ٹیکسوں سے کاٹنے کا قانون منظور کرلیا

منگل جون 16:16

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ و سیکیورٹی کمیٹی نے فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کو ملنے والی امداد کے برابر رقم فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکسوں سے کاٹنے کا قانون منظور کرلیا۔عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ وسلامتی کمیٹی نے آئینی بل پر دوسری اورتیسری رائے شماری کی۔

بل میں شامل اس شق کو ختم کردیا گیا جس میں فلسطینی ٹیکسوں کی رقوم میں کمی بیشی کا اختیار حکومت کو دیا گیا تھا۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ وزیرخزانہ کو فلسطینی اتھارٹی کو ادا کی جانے والی ٹیکسوں کی رقم میں سے اتنی رقم منہا کرنے کا اختیار ہوگا جتنی فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کی کفالت کیلئے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے ادا کی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

مسودہ قانون میں یہ وضاحت شامل ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے کل بجٹ کا سات فیصد جس کی مالیت 30 کروڑ ڈالرکے برابر ہے فلسطینی شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کی کفالت پر خرچ کرتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی یہ رقم یورپی یونین،، امریکا اور دوسرے ملکوں سے حاصل ہونے والی امداد سے استعمال کرتی ہے۔قبل ازیں صہیونی وزراء نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران یہودیوں کی فصلوں کو ہونیوالے نقصان کے ازالے کیلئے فلسطینی اتھارٹی کی ٹیکسوں کی رقم میں سے کٹوتی کرے۔