آئین کے تحت اختیار اور اقتدار کا منبہ پارلیمنٹ ،بدقسمتی سے پارلیمنٹ رکوع اور سجدے سے ہی نہیں اٹھ سکی، پرویز رشید

منگل جون 17:17

آئین کے تحت اختیار اور اقتدار کا منبہ پارلیمنٹ ،بدقسمتی سے پارلیمنٹ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ آئین کے تحت اختیار اور اقتدار کا منبہ پارلیمنٹ ہے،بدقسمتی سے پارلیمنٹ رکوع اور سجدے سے ہی نہیں اٹھ سکی، اظہار رائے کے حوالے سے سیمینار میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور سپریم کورٹ کے جج کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کے بغیر توآج کل پاکستان میں کوئی بات نہیں ہوتی،،پاکستان میں مسئلہ آزادی صحافت کا نہیں بلکہ مسئلہ آزادی جمہور کا ہے،،پاکستان کاآئین خون جگر سے لکھا گیا لیکن اس کی روح پر ہم ایک دن بھی عمل نہیں کر سکے، نواز شریف کو تو اقامے پر سیاست سے تاحیات نااہل کر دیا لیکن مشرف کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

وہ منگل کو آر آئی یو جے کے زیر اہتمام آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان کے اندر صحافیوں کو کام نہیں کرنے دیا جا رہا اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، میں یہ تجویز دیتا ہوں کہ اس سیمینار میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر اور سپریم کورٹ کے جج کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کے بغیر تو آج کل پاکستان میں کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان میں مسئلہ آزادی صحافت کا نہیں بلکہ مسئلہ آزادی جمہور کا ہے، جمہور نے اپنا وطن تو حاصل کرلیا لیکن اس میں رہنے والوں کو آزادی نہیں ملی، جمہور آزاد نہیں ہو گاتو صحافت بھی آزاد نہیں ہو گی اور ملک کے اندر عدل کا منصفانہ نظام بھی نہیں ہو گا،،پاکستان کا ہی خون جگر سے لکھا گیا لیکن اس آئین کی روح پر ہم ایک دن بھی عمل نہیں کر سکے، کاغذات کے اندر تو اختیار اور اقتدار کا منبہ پارلیمنٹ ہے لیکن اتنے سالوں میں یہ پارلیمنٹ رکوع اور سجدے سے ہی نہیں اٹھ سکتی، سیاست اور صحافت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے،اس وقت حالات یہ ہیں کہ مشرف عدالتوں کو ڈکٹیشن دے رہا ہے کہ میرے یہ مطالبات پورے کرو تو میں وطن واپس آئوں گا اور عدالتیں ڈکٹیٹر کے تمام مطالبات مان رہی ہیں، عوام کے دلوں میں راج کرنے والے نواز شریف کو تو اقامے پر سیاست سے تاحیات نااہل کر دیا گیا ہے لیکن ایسا شخص جس پر آرٹیکل چھ کا مقدمہ چل رہا ہے اسے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے،اس وقت ملک کے اندر ایک یونائیٹڈ فرنٹ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام طبقات کے افراد شامل ہوں اور وہ آزادی اظہار رائے حاصل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر سکیں۔