اظہار رائے پر پابندی پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے،

آزادی صحافت کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے،اس کو اپنی پارٹی منشور کا حصہ بنائیں گے،ضیاء دور میں کچھ صحافی ایسے آئے جنہوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کیا پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر شبلی فراز کا سیمینار سے خطاب

منگل جون 17:17

اظہار رائے پر پابندی پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اظہار رائے پر پابندی پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے،ہمآزادی صحافت کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے اوراس کو اپنی پارٹی منشور کا حصہ بنائیں گے،ضیاء دور میں کچھ صحافی ایسے آئے جنہوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کیا۔منگل کو آر آئی یو جے کے زیر اہتمام آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید،، جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اظہار رائے پر پابندی پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے، صحافیوں کی پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی اور آمریت کے خلاف جدوجہد میں بڑی قربانیاں ہیں،ضیاء دور میں کچھ صحافی ایسے آئے جنہوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کیا،صحافت میں بگاڑ آنے سے معاشرے میں خرابی پیدا ہوئی، پاکستان تحریک انصاف کا ابھی تک ون پوائنٹ ایجنڈہ کرپشن کے خلاف جہاد تھا لیکن اب ہم میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی کام کریں گے اور اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھاتے ہوئے آزادی رائے کی آزادی کو اپنی پارٹی منشور کا حصہ بنائیں گے،اگر صحافت مثبت طریقے سے کی جائے تو آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔