عید سے قبل عوام پر ڈالر اور پٹرول بم گرا دیا گیا،ایف پی سی سی آئی

ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں چار روپے چالیس پیسے کی کمی عوام ،معیشت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ،پالیسی سازوں، اکنامک مینیجروں کی ناکامی کا ثبوت ہے

منگل جون 17:03

عید سے قبل عوام پر ڈالر اور پٹرول بم گرا دیا گیا،ایف پی سی سی آئی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی(ایف پی سی سی آئی) کے صدرغضنفر بلورنے کہا ہے کہ عید سے چند دن قبل ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں چار روپے چالیس پیسے کی کمی عوام اور معیشت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے جو پالیسی سازوںاور اکنامک مینیجروں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ روپے کی اس ریکارڈ پسپائی سے ملکی کی معاشی ترقی کے بارے میںسیاستدانوں کے بلند بانگ دعووں اور سابق وزیر خزانہ کی جانب سے روپے کی قدر میں مزید کمی کی ضرورت نہ ہونے کے وعدوں کی قلعی کھل گئی ہے جبکہ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں تقریباًچار سو ارب روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے جو ناقابل قبول ہے۔

ڈالر کے انٹر بینک اور مارکیٹ ریٹ میں فرق بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس سے قانونی طریقے سے رقم کے ٹرانسفر کی حوصلہ شکنی ہو گی جس سے ہنڈی کا کاروبار نئی بلندیوں تک پہنچ جائے گا اور ترسیلات بری طرح متاثر ہونگی۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور، سینئیر نائب صدر مظہر علی ناصراور چئیرمین کو آرڈینیشن ملک سہیل نے یہاں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈالر کی اڑان کے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ جائے گاجس سے عوام بری طرح متاثر ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ ریکارد تجارتی خسارے کی وجہ سے ادائیگیوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔جاری حسابات کا خسارہ دس ماہ میں چودہ ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔مرکزی بینک حکومت کو مزید قرضے نہ لینے کا مشورہ تواتر سے دے رہا ہے مگر مسائل کا حل نہیں بتا رہا جس سے اسکے غیر فعال ہونے کا پتہ چلتا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکمران ملک کے اقتصادی مسائل حل قرضوں پر قرضے لینے اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی میں ڈھونڈ رہے ہیں جو اقتصادی خودکشی کے مترادف ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور، سینئیر نائب صدر مظہر علی ناصراور چئیرمین کو آرڈینیشن ملک سہیل نے کہا کہ کاروباری برادری ڈیزل کی قیمت میں چھ روپے پچپن پیسے اور پٹرول کی قیمت میں چار روپے چھبیس پیسے کا اضافہ مسترد کرتی ہے کیونکہ اس سے عوام، معیشت ، ٹرانسپورٹ اور کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہونگے اورافراط زر میں زبردست اضافہ ہو گا۔ حکومت نے عید سے قبل عوام پر ڈالر اور پٹرول بم گرا دیا ہے جو عوام دشمنی ہے۔اگر یہ آئی ایم ایف کی ایما پر کیا جا رہا ہے تو عوام اور کاروباری برادری کو اندھیرے میں نہ رکھا جائے اور روپے کے بے قدری اور تیل کی قیمت میں اضافہ واپس لیا جائے۔پالیسی سازوں کی ناکامیوں کا بدلہ عوام سے نہ لیا جائے۔