پی پی اے ایف SUN-CSAکا چیئر ، ایگزیکٹو کونسل کا رکن منتخب

منگل جون 17:32

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) اگلے دو سال کے لئے سن سی ایس اے پاک (SUN-CSA Pak)کا چیئر اور ایگزیکٹو کونسل کا رکن منتخب ہوگیا ہے۔ حال ہی میں اسکی ایگزیکٹو کونسل کا پہلا اجلاس پی پی اے ایف کی زیر صدارت اسکے دفتر میں منعقد ہوا ۔ اس اجلاس میں 13 رکن تنظیموں اور سن سی ایس اے سیکریٹریٹ نے شرکت کی۔

حال ہی میں سن سی ایس اے سیکریٹریٹ کی جانب سے دوسری ایگزیکٹو کونسل کے انتخابات ہوئے۔ اس الیکشن میں پاکستان بھر میں غذائیت پر کام کرنے والی 156 صف اول کی سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے خفیہ بیلٹ کے ذریعے 15 قومی/بین الاقوامی تنظیمیں منتخب ہوئیں ۔ پاکستان نے سال 2013 میں گلوبل سن (غذائیت میں اضافہ) مہم پر دستخط کئے۔

(جاری ہے)

اس منفرد مہم کی بنیاد یہ ہے کہ تمام لوگوں کو خوراک اور اچھی غذائیت کا حق حاصل ہے۔

سن سی ایس اے پاک ایک قومی سطح کا نیوٹریشن سول سوسائٹی نیٹ ورک ہے جو پاکستان کے لوگوں میں غذائیت کی صورتحال اور پائیدار و بہتر انداز سے مسئلہ حل کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ یہ کام مضبوط، منظم اور فعال سول سوسائٹی قائم کرکے کیا جائے گا اور نیوٹریشن ایجنڈے پر بڑے پیمانے پر عمل درآمد کے ساتھ مزید بہتری لائی جائے گی۔ پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے پاکستان میں قومی اشاریوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "ملک میں غذائیت کی قلت کی پریشان کن صورتحال ہے۔

44 فیصد بچوں کے قد بڑہنے کی شرح کم ہوگئی ہے جبکہ 40 فیصد بچوں کا وزن معمول سے کم ہے۔ اب اس پلیٹ فارم کے ذریعے اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے کہ کس طرح سے ایگزیکٹو کونسل کے اراکین اور سیکریٹریٹ اپنے طور پر اور تنظیمی صلاحیتوں کے ساتھ پاکستان میں خوراک کی قلت اور ناکافی غذائیت کے خاتمے میں کردار ادا کریں گے۔" نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر اور سن سی ایس اے پاک کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر نصیر محمد نظامانی نے ملک میں غذائیت کی موجودہ بحرانی صورتحال کا تخمینہ 7.6 ارب ڈالر سالانہ لگایا ہے جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا 3 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سن سی ایس اے کے دوسرے مرحلے کی حکمت عملی یہ ہے کہ ناکافی غذائیت کے شکار افراد کے لئے نتائج برقرار رکھنے پر توجہ قائم رہے ۔ یہ ایک عملی تصور پیش کرتا ہے کہ کس طرح سے سال 2030 تک دنیا کو غذائیت کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی جانب مل جل کر کام کرنا ہے۔ سن سی ایس اے پاک نے اپنا پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان (2016 تا 2020) گلوبل سن سی ایس اے کی خصوصی مہم کی روشنی میں تیار کیا ہے۔

اس اہم منصوبے کو چار شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پی پی اے ایف کی سینئر گروپ ہیڈ اور سن سی ایس اے کی چیئرپرسن سامعہ لیاقت علی خان نے اجلاس کے اختتام پر ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پی پی اے ایف پر اعتماد کیا ۔ انہوں نے تین سطحی حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کے بھرپور اشتراک سے غذائیت کی قلت کے خلاف سن سی ایس اے پاک کے کام کو نئی سطح پر پہنچایا جائے گا۔