ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل کے سابقہ نقشے میں تبدیلی کے سلسلے میں متعلقین سے اعتراضات طلب

منگل جون 17:34

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پروجیکٹ ڈائریکٹوریٹ ٹرمینلز نے بذریعہ اخبارات ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل کے سابقہ نقشے میں تبدیلی کے سلسلے میں متعلقین (اسٹیک ہولڈر)سے اندرون سات یوم اعتراضات طلب کئے ہیں جس کی مدت گزرنے کے بعد ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل کے سابقہ نقشے میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی اعتراض قابل قبول نہ ہوگا، مذکورہ نقشے میں تبدیلی کی سفارشات اس سلسلے میں میئر کراچی وسیم اختر کی ہدایت پر میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے چیئرمین ورکس کی سربراہی میںقائم کی گئی کمیٹی جس کے دیگر ممبران میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز، پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹرمینل، محکمہ قانون کا نمائندہ، ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن، میئر سیکریٹریٹ کے ایک نمائندے اور کنسلٹنٹ ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل شامل تھے،پیپلز لائنز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور متعلقہ افسران کی باہمی مشاورت سے ٹینکر ڈرائیورزاور ان سے متعلق عملے کی آرام گاہ اور دیگر مصارف کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی ہے جس کی منظوری بلدیہ عظمیٰ کراچی کی منتخب کونسل سے حاصل کی جائے گی،شہر کی بڑی شاہراہوں پر بھاری گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور شہریوں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر نیشنل ہائی وے پر 150 ایکڑ پر محیط اراضی پر آئل ٹینکرز ٹرمینل پر آئل ٹینکرز کو پارک کرنے کے احکامات جاری کئے گئے اور اس حوالے سے 20 ستمبر 2017 ء کو قومی اخبارات میں آئل ٹینکرز ٹرمینل کا ماسٹر پلان شائع ہوا جبکہ ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مطالبے پر ٹینکرز ڈرائیورز کی سروسز کے لئے مزید 50 ایکڑ اراضی ٹرمینل سے متصل حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی جسے دکانوں، ڈرائیورز اور ان سے متعلقہ عملے کی آرام گاہ اور دیگر مقاصد کے لئے مختص کیا گیا ، سپریم کورٹ کی طرف سے اس ٹرمینل کو فوری طور پر شروع کرنے احکامات کے پیش نظر ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لئے چیئرمین ورکس کمیٹی اور دیگر متعلقہ افسران نے ذوالفقار آباد آئل ٹینکر پارکنگ ٹرمینل کے دورے کئے اور دکانداروں کی ایسوسی ایشن سے بات چیت کے بعد یہ حل نکالا گیا کہ اگر بلاکE- اور بلاکF- کو مختلف اقسام کی دکانوں ، ہوٹل،، سروس اسٹیشن اور ڈرائیور ان سے متعلق عملے کی آرام گاہ کے لئے مختلف کردیا جائے اور مذکورہ 50 ایکڑ اراضی کو پارکنگ کے لئے مختص کردیا جائے تو اس سے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ ڈرائیورز اور ان سے متعلق عملے کو بھی بہتر سہولیات فراہم ہوسکیں گی۔