سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کو آرڈنیشن کا اجلاس

وزارت صحت ،ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار ،کارکردگی ، بجٹ ، ملازمین کی تعداد ، ماتحت اداروں کو درپیش مسائل کے معاملات کے ودیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

منگل جون 18:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کو آرڈنیشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی صدارت میں پارلیمنٹ لاجز کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت صحت اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار ،کارکردگی ، بجٹ ، ملازمین کی تعداد ، ماتحت اداروں کو درپیش مسائل کے معاملات کے علاہ سابق وزیر موسمی تغیرات سینیٹر مشائد اللہ خان کا 24 مئی 2018 ء کو سینیٹ اجلاس میں پیش کردہ بل برائے پاکستان کے سینما گھروں میں تمباکو نوشی پر پابندی کا راپیل بل 2018 ء اور مغربی پاکستان کے بچو ں کو تمباکو نوشی سے ممانعت کے بل 2018 ء کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری صحت نے بتایا کہ تمباکو نوشی کی روک تھام کے حوالے سے 2002 ء آرڈینس لایا گیاجو پورے ملک کے لیے تھا وفاق اور خصوصی علاقوں کے علاوہ۔

(جاری ہے)

جس پر قائمہ کمیٹی نے وزارت قانون اور انصاف سے پہلے بل کلیئر کروانے کا فیصلہ کیا جبکہ قائمہ کمیٹی نے بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کا بل (جو وینائل سموکنگ راپیل بل 2018 )کی منظوری دے دی۔

قائمہ کمیٹی کو وزارت صحت کے کام کے طریقہ کار،، کارکردگی ،،بجٹ اور درپیش مسائل بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبائی ہے بہت ساری پاور ز صوبوں کو منتقل کر دی گئی ہیں وفاق کے ساتھ تعاون اور ریگولیشن کے فروغ کے لیے یہ وزارت 2013ء میں قائم کی گئی وزارت کے ساتھ 27 قومی ادارے اور23عالمی پارٹنر بھی ہیں ۔

قومی اداروں میں 10 ریگولیٹری ،6 تحقیق اور 11 برائے راست سروس فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں ۔اتھارٹی میں ڈرایپ ، پی ایم ڈی سی، پی این سی ، پی سی پی ، سی پی اینڈ ایس پی وغیرہ شامل ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2012 ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر دیا گیا چیف جسٹس نے ایک ایڈوائیزی کونسل اور ایڈہاک کمیٹی بنائی جو روز مرہ کے کا م چلاتی ہیں چیف جسٹس نے تین کمیٹی کے اجلاس بھی بلائے ہیں قانون سازی پر کا م ہو رہا ہے جس پر قائمہ کمیٹی نے ون ایجنڈا کمیٹی کا اجلاس کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی حکام سے بریفنگ کا فیصلہ کیا ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نرسنگ کونسل کے الیکشن کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے سیکرٹری صحت نے کہا کہ اگرچہ کالج آف فیزیشن اینڈ سرجن آف پاکستان وزارت کا ماتحت ہے مگر اُن کی محرکات کا کوئی علم نہیں اورنہ ہی وہ ہمیں جوابدہ سمجھتے ہیں ۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی ڈگریوں کی تصدیق کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا۔ چیئرمین کمیٹی میاں عیتق شیخ نے کہا کہ 38 ہزار الائیڈ پروفشنلز کے کلینک کو پنجاب میں بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں بہت سے لوگوں کے پاس ڈگریا ں بھی موجود تھیں اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سے ٹائم بھی مانگا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے معاملے کا مزید جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام کو طلب کر لیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 45 نئے ہسپتال بنانے کے لیے وزیراعظم ہائوس میں HIDMC قائم کیا گیا 4 سال گزرنے کے باوجود کوئی فزبیلٹی سٹڈی نہیں کروائی گئی اور اس کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے تھے ۔ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری پلاننگ ڈویژن کو اس حوالے آئندہ طلب کر لیا گیا ۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں پولیو کے کنٹرول کے لیے سابقہ وزیر اور وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو بین الاقومی سطح پر سراہا گیا ہے اور یہ سب وزیراعظم پولیو سیل کے قیام کی وجہ سے ممکن ہوا ہے ۔ پاکستان دنیا میں ٹی بی کے مرض میں پانچوں نمبر پر ہے 450 میشنیں آ چکی ہیں اور 120 مختلف علاقوں میں لگا دی گئی ہیں بہت اچھی میشنیں ہیں اور ایمپورئڈ ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں سالانہ 512 کیسز سامنے آ رہے ہیں اور سینکڑوں کا علم نہیں ہوتا۔

ٹی بی اور ایڈ ز کے مریضوں کو علاج کے لیے اب پیسے بھی فراہم کرتے ہیں ۔قائمہ کمیٹی کو صحت کے شعبے میں گلوبل پارٹنز کی تفیلات سے آ گا ہ کیا گیا کہWHO, ، ADB, IMF,JICA,SAARC,SIDA,WB,USAID وغیرہ شامل ہیں ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا کل بجٹ 54 ارب روپے ہے جس میں سے 23 ارب روپے غیر ملکی فنڈنگ ہے اور 9 ارب روپے کے قرض ملے گے ۔ پاکستان میں متعدد ادویات کو چیک کرنے کے لیے آئن لائن تفصیلات بھی فراہم کر دی گئی ہیں ۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک کمپنی کی دوائی مریض کے لیے 280 روپے میں ملتی ہے جبکہ ہول سیل میں اُ س کی قیمت 38 روپے ہے سینکڑوں ادویات ایسی ہیں جن کی قمیت روپوں ہوتی ہے مگر مریضوں سے سینکڑوں روپے وصول کیے جاتے ہیں چیف جسٹس آ ف پاکستان اس بات کا سخت نوٹس لے میں ثبوت فراہم کرنے کو تیار ہوں ایسی ادویات جن کی قیمتیں بہت کم ہونی چائیں متعلقہ عملے کی ملی بھگت کی وجہ سے مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

جس پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں ڈائریکڑ پراسنگ سے اس حوالے سے تفصیلات حا صل کی جائے ۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز غوث محمد خان نیازی ، دلاور خان ، ڈ اکٹر اسد اشرف ، ڈ اکٹر اشوک کمار، ثمینہ سعید، سردار محمد شفیق ترین کے علاوہ نگران وزیر صحت شیخ اختر ،سیکرٹری صحت نوید قمر ِ،ایڈیشنل سیکرٹری محمد علی شہزادہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔