تنازعہ کشمیر بھارتی آئین سے بالامسئلہ ہے ،آئین کے اندر مسئلے کا کوئی دیرپا حل ممکن نہیں، حریت کانفرنس

حریت کانفرنس کا پانچ نکاتی فارمولا بھارت کیساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کیلئے بنیاد فراہم کرتاہے،ترجمان

منگل جون 18:38

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر بھارتی آئین سے بالاایک مسئلہ ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں بھارتی آئین کے اندر اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل ممکن نہیں ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ غلام احمد گلزارنے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے حریت کانفرنس کا پانچ نکاتی فارمولہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیاد فراہم کرتاہے اور اس کے تحت بھارت کو جموںو کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوںنے کہاکہ بھارت کی موجودہ فرقہ پرست حکومت اقتدار کے نشے میں مست ہوکر کشمیری عوام کودھمکیاں دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کشمیری عوام گزشتہ 70سال سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک جلیاں والا باغ جیسے درجنوں واقعات پیش آئے ہیں اور چھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا جا چُکا ہے،ہزاروں حریت پسندوںکو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، ہزاروںنوجوانوں کو زیرِ حراست قتل کیا گیا، عفت مآب خواتین کے دامن عصمت کو تار تار کیا گیا اور اب تک کھربوں روپے مالیت کی املاک تباہ کی جاچکی ہے۔

حریت ترجمان نے کہا کہ یہ بیش بہا قربانیاں بھارتی آئین کے تحت مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے لیے نہیں بلکہ کشمیری عوام کے پیدائشی حق یعنی حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے پیش کی گئی ہیں۔