پلوامہ اور اسلام آباد میں بھارتی فورسز پر حملوں میں 2اہلکار ہلاک ، 10زخمی ہوگئے

جموں وکشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنے تک بھارت کیساتھ مذاکرات فضول مشق ہے، حریت کانفرنس

منگل جون 18:38

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم نہیں کرتااس وقت تک اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنا ایک فضول مشق ہوگی۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ حریت کانفرنس کی طرف سے 2010ء میں پیش کیا جانے والے پانچ نکاتی فارمولہ بھارت کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

پانچ نکاتی فارمولے میں جموںوکشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرنا، فوج کو بیرکوں میں واپس بلانا، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا،کالے قوانین کے نفاذ کو منسوخ کرنا اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث فورسزاہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا شامل ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہاکہ بھارتی قیادت اقتدار کے نشے میں مست ہوکرکشمیریوں کو پتھرائو میں ملوث قراردیکر قتل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

انہوں نے حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پرکشمیریوں کے ساتھ بھارت کے غیر انسانی سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جلیانوالہ باغ قتل عام جیسے درجنوں واقعات پیش آنے کے باوجود کشمیری عوام اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہونگے۔ ضلع شوپیان کے علاقے ڈی کے پورہ میں دیواروں پردرج بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے اور تصاویر مٹانے کی کوشش کرنے پربھارتی فوجیوں پرزبردست پتھرائو کے بعد علاقے میںبھارتی فورسز اور احتجاج کرنیوالے نوجوانوںکے درمیان جھڑپیں ہوئیں جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔

بھارتی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کی او ر آنسو گیس کے گولے داغے۔دریں اثناء پلوامہ قصبے میں آج ایک حملے میںبھارتی پولیس کی2ا ہلکار ہلاک اورایک زخمی ہوگیا۔ حملہ آور پولیس اہلکاروں کی رائفلیں اور گولہ بارود بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ ایک اور حملے میں اسلام آباد قصبے کے علاقے جنگلات منڈی میں ایک گرینیڈ دھماکے میں بھارتی فورسز کے 10اہلکار زخمی ہوگئے۔

بھارتی فوج نے ضلع بانڈی پورہ میں آج مسلسل چوتھے روز بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی جاری رکھی۔ آپریشن کو ویون، سریندر، کڈارہ، آرہ گام اور اجس کے علاقوں تک بڑھانے کے لیے بھارتی فوج کے کمانڈوزاور پیراملٹری فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی ہے۔ ضلع کے علاقے رائنار میں ہفتے کی شام کو 14راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں آپریشن شروع کیاتھا۔ وادی کشمیر میں شب قدر مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی گئی اور سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اس سلسلے میں عبادت گزاروں کا سب سے بڑا اجتماع منعقد ہوا۔