شانگلہ کوسازش کے تحت جان بو جھ کر پسماندہ رکھا گیا ، شو کت علی یوسفزئی

منگل جون 18:42

بشام (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) شانگلہ، پی ٹی آئی کے سا بق صو بائی وزیر و رکن صو بائی اسمبلی شو کت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ شانگلہ کوسازش کے تحت جان بو جھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے، شانگلہ سے منتخب ہو کر شانگلہ کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے، شانگلہ کے عوام کو ان کی بنیادی حقوق دلا نے کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کریں گے، بہترین ما حول کیساتھ شانگلہ میں الیکشن ہو جا ئے ، ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ہمیں ہار کو بھی تسلیم اور جیت کو بھی منانا ہو گا، بجائے اس کے ہم دوسروں پر الزاما ت لگائیں ، عوام جمہوری عمل کے ذریعہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور اپنے ووٹ کے ذریعے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں تاکہ وہ عوام کی بہترین طریقے سے ترجمانی کرسکیں شانگلہ کے عوام کا ان حق دلا ئیں ۔

(جاری ہے)

وہ بشام میں صحا فیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس مو قع پر ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے رہنما ء وقار احمد خان، نواز محمود خان، انجینئر تواب خان، اختر علی چھٹان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجود ہ حالات میں عمران خان کا وزیر اعظم بن جانا انتہا ئی ضروری ہے ، عمرا ن خان پاکستان کا وزیر اعظم بن کر ہی پاکستان کو مشکلات سے نکالیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ تر قیاتی کام اور عوام دوست طرز حکمرانی پی ٹی آئی کا طرہ امتیاز ہے، عوام شانگلہ میں تر قی و خوشحالی کا تسلسل جاری رکھنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں اور ووٹ کے ذریعے ان کا انتخاب کر یں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار وفاق اور صو بے دونوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہو گی اور شانگلہ کے عوام ان قیادت کا انتخاب کر یں تاکہ وہ نمائندیں اسمبلیوں میں جاکر شانگلہ کے عوام کے حقوق کیلئے کر دار ادا کر سکیں اور شانگلہ کو تر قیافتہ اضلاع کی فہرست میں شامل کر سکیں، اور اگر شانگلہ کے عوام نے ایک بار پھر اپوزیشن ممبران کا انتخاب کیا تو شانگلہ کو تر قی دینا مشکل ہو جا ئیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار میں شانگلہ کے عوام میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں اور اس بار وہ پی ٹی آئی کے قیادت کا انتخاب کریں گے اور اکثریت رائے سے کامیاب کرائیں گی، پی کے 77کے ٹکٹ نہ دینے کے سوال کے جواب پر شو کت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پی کے 77سے الیکشن نہ لڑنا پارٹی کا فیصلہ ہے اورپارٹی جو بھی فیصلہ کریں گی وہ مجھے سر انکھوں پر منظور ہو گا، ٹکٹ کا میرے نزدیک کو ئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی ہم پارٹی میں ٹکٹ کیلئے آئے ہیں۔

کیونکہ ہم ایک وژن کے تحت پاکستان تحریک انصاف میں آئیں ہیں اور پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کو کا میاب کرائیں گے۔ انہوں نے مخالفین کو جواب دیتے ہو ئے کہا کہ پی ٹی آئی شانگلہ میں کو ئی اختلافات نہیں ہے اور پارٹی جس کو ٹکٹ دیں گی وہی شانگلہ میں پی ٹی آئی کا امیدوار ہو گا۔