محکمہ اوقاف کی مجرمانہ غفلت کے باعث سرگودھا اور گردونوا ح میں جعلی حکیموں‘ پیروں‘ ڈاکٹروں کی بھرمار

سادہ لوح لوگ خصوصاً خواتین لُٹنے لگیں جعلی پیروں نے جادو ٹونے کے نام پر گھر کے گھر اجاڑ دیئے،اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

منگل جون 18:43

ْسرگودھا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) محکمہ اوقاف کی مجرمانہ غفلت کے باعث سرگودھا اور گردونواح میں جعلی حکیموں‘ پیروں‘ ڈاکٹروں کی بھرمار کے باعث سادہ لوح لوگ خصوصاً خواتین لُٹنے لگیں جعلی پیروں نے جادو ٹونے کے نام پر گھر کے گھر اجاڑ دیئے سرگودھا اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں جعلی پیر خانے قائم ہیں اور جعلی پیرنیاں بھی عوام کو بھی بیوقوف بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اسی طرح جعلی حکیموں کے ہاتھوں کئی نوجوان ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کیلئے ان کی ادویات استعمال کرکے اپنے گردہ وغیرہ ناکارہ کروا چکے ہیں جبکہ جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار نے بھی عوام کو لوٹنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا باپ دادا کے لائسنس پر ابھی بھی کئی ڈسپنسر ان کی وفات پا جانے کے باوجود بھی میڈیکل سٹور اور ڈسپنسریاں چلا رہے ہیں محکمہ صحت اور انتظامیہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جعلی‘ پیروں‘ حکیموں اور ڈاکٹروں نے بڑے بڑے سائن بورڈز شہر بھر میں آویزاں کررہے ہیں جن پر پُرکشش عبارات تحریر ہیں جنہیں پڑھ کر لوگ ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور اپنی زندگیوں کیساتھ ساتھ جمع پونجی بھی لوٹا بیٹھتے ہیں یادرہے کہ چک نمبر95میں آستانہ علی محمد گجر میں گزشتہ سال یکم اپریل کی شب جعلی پیر عبدالوحیدگجرنے اپنے ساتھیوں کی مددسے چارخواتین سمیت بیس افراد کو اجتماعی طور پر بیدردی سے قتل کردیاجس کامقدمہ تاحال انسداد دہشت گردی کورٹ میں زیرسماعت ہے ۔

(جاری ہے)

اس واقعہ کے بعد حکومت کی ہدایات پر محکمہ اقاف حرکت میں آیامگر چند روز بعد خاموشی اختیار کرلی گئی شہریوں نے الزام لگایا کہ اتنا بڑے سانحہ کے باوجود جعلی پیر خانوں کیخلاف کاروائی نہ کرناسمجھ سے بالاترہے محکمہ اوقاف کے سینکٹروں ملازمین مفت کی روٹیاں توٹ رہے ہیں نگران پنجاب حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کی کہ وہ جعلی پیروں ‘حکیموں اور ڈاکٹروں کیخلاف گرینڈ آپریشن کا حکم دیں تاکہ لوگ ان کے ہاتھوں لُٹنے سے بچ سکیں۔