ڈی ایم جی گروپ افسران کا پی آئی او سلیم بیگ کی چیئرمین پیمرا کے عہدے پر تقرری رکوانے کیلئے گٹھ جوڑ

صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی رضا مندی کے باوجود تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا ڈی ایم جی گروپ نے نگران وفاقی وزیر اطلاعات بیرسٹر علی ظفر اور سیکرٹری انفارمیشن کو بھی شیشے میں اتار لیا

منگل جون 20:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) ڈی ایم جی گروپ کے افسران نے پرنسپل انفارمیشن آفیسر سلیم بیگ کی چیئرمین پیمرا کے عہدے پر تقرری رکوانے کیلئے گٹھ جوڑ کرلیا‘ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی رضا مندی کے باوجود سلیم بیگ کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا۔ ڈی ایم جی گروپ نے انفارمیشن گروپ کے سلیم بیگ کی چیئرمین پیمرا تعیناتی رکوانے کیلئے نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر علی ظفر اور سیکرٹری انفارمیشن کو بھی شیشے میں اتار لیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پیمرا کے عہدے پر تقرری تاحال محلاتی سازشوں کا شکار ہے۔ بیورو کریسی میں موجود ڈی ایم جی گروپ اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے ابھی تک سلیم بیگ کی تقرری کو روکنے میںکامیاب رہا ہے۔

(جاری ہے)

مصدقہ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے چیئرمین پیمرا کی تقرر کیلئے بنائی گئی پانچ رکنی کمیٹی نے اس عہدے کیلئے تقریباً سات ڈی ایم جی افسران کو نظر انداز کرکے پرنسپل انفارمیشن آفیسر سلیم بیگ کی تقرری کا فیصلہ کردیا تھا۔

بعد ازاں سازشی تھیوری کے اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے چیئرمین پیمرا کے عہدے پر سلیم کے عہدے پر سلیم بیگ کی تقرری کیلئے این او سی جاری کردیا تھا جبکہ صدر پاکستان ممنون حسین اس حوالے سے پہلے این او سی جاری کر چکے ہیں ۔ اس کے باوجود چیئرمین پیمرا کے عہدے پر تقرری نہیں ہوسکی۔

ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایم جی گروپ نے اس تقرری کو روکنے کیلئے سیکرٹری انفارمیشن اور نگران وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر علی ظفر کو بھی رام کرلیا ہے۔ کیونکہ یہ تاثر قطعی طور پر غلط انداز میں پیدا کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین پیمرا کے عہدے پر تقرری کیلئے نامزد کمیٹی کی سفارشات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ اس حوالے سے موقف جاننے کیلئے بیرسٹر علی ظفر سے رابطہ کیا گیا لیکن ان کا موبائل اٹینڈ نہیں ہوا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق ڈی ایم جی گروپ نے انفارمیشن گروپ سے بدلہ لینے کیلئے سیکرٹری انفارمیشن اور وزارت انفارمیشن کے اعلیٰ افسر کو استعمال کیا ہے۔