ہمارا مینڈیٹ واضح ہے کہ ہم الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلیں گے،بیرسٹر علی ظفر

جو حقائق ہیں وہ سب کے سامنے پیش کریں گے، آئندہ حکومت کے لیے گائیڈ لائن بھی دیں گے لیکن ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہائیڈرو پاور 3000 میگا واٹ پیدا ہورہی ہے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے انہوں نے ا ٹرانسمیشن لائنز کو اپ گریڈ نہ کرنے کی وجہ سے جتنی بجلی پیدا کی جارہی ہے اس کی ترسیل ممکن نہیں ہے،نگران وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی فارمولے کے تحت ہوتی ہے ،ہم کوئی بھی نئے معاہدے یا بڑے پیمانے پر مذاکرات نہیں کرسکتے، چئیرمین پیمرا کیلئے سپریم کورٹ نے کمیٹی بنا دی ہے ،شمشاد اختر

منگل جون 20:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و پاور ڈویژن بیرسٹر علی ظفرنے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ واضح ہے کہ ہم الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، جو حقائق ہیں وہ سب کے سامنے پیش کریں گے اور آئندہ حکومت کے لیے گائیڈ لائن بھی دیں گے لیکن ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ،ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہائیڈرو پاور 3000 میگا واٹ پیدا ہورہی ہے جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹرانسمیشن لائنز کو اپ گریڈ نہ کرنے کی وجہ سے جتنی بجلی پیدا کی جارہی ہے اس کی ترسیل ممکن نہیں ہے وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران نگراں وزیر اطلاعات علی ظفر کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی، ہم ملک میں شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی ) کی مدد کریں گے لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن فنی خرابی کے باعث بجلی کی پیداوار نہیں ہورہی انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی 4 وجوہات ہیں، جن میں پہلی وجہ طلب اور رسد کا فرق ہی, دوسری وجہ پانی کی قلت ہے، تیسری وجہ ترسیل کے نظام میں خرابی ہے جبکہ چوتھی وجہ بجلی چوری والے علاقوں میں حکومتی پالیسی کے تحت لوڈ شیڈنگ ہونا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیمز میں پانی کی مقدار پوری ہو اور پلانٹس بھی درست کام کر رہے ہوں تو ملک میں بجلی بنانے کی صلاحیت 28 ہزار میگا واٹ تک ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تمام چیزیں ایک وقت میں درست ہوںنگراں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس وقت جو صلاحیت موجود ہے اس کے مطابق 21 سے 22 ہزار میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار ہورہی ہے جبکہ اس کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے لیکن صرف 2 ہزار میگا واٹ کے فرق میں اتنی زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے علی ظفر نے کہا کہ نگراں حکومت کے آنے کے بعد اچانک زیادہ لوڈشیڈنگ کی کئی وجوہات تھیں، جن میں ڈیمز میں پانی کی کمی پہلی وجہ تھی، جس کے باعث ہائیڈل پیداوار صرف 3 ہزار میگاواٹ ہوگئی تھی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نصف تھی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اضافی لوڈشیڈنگ کی دوسری وجہ پورٹ قاسم کے 2 حصوں میں فنی خرابی تھی، جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی انہوں نے کہا کہ جہاں پیداواری صلاحیت بڑھائی گئی ہے وہاں ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ ہم نے 40 برس میں کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کیا جبکہ ہمارا آبپاشی کا نظام بھی 100 سالہ پرانا ہے اور ہم نے کبھی پانی اور بجلی کے ذخائر پر کام نہیں کیااس موقع پر نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں کافی عرصے سے قیمتوں کے حوالے سے ایک نظام رکھا گیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی فارمولے کے تحت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک فارمولے اور نظام کے تحت ہوتی ہے جبکہ کچھ آرڈیننس ہیں جو اسے گورننس کرتے ہیںشمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ہماری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی خلیجی مارکیٹوں سے منسلک ہوتی ہیں، لہٰذا اس میں رد و بدل ایک حقیقت ہے، جسے دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ خلیجی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن گزشتہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 7 جون تک اس کی قیمتیں برقرار رکھی جائیں جبکہ اس میں تبدیلی یا اضافے کا فیصلہ نگراں حکومت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھانگراں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر ہماری حکومت نے اجلاس بلایا اور ماہ رمضان کی وجہ سے قیمتوں میں رد و بدل میں تاخیر کی کوشش کی گئی لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کے باعث صرف 50 فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا گیاانہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے کم رکھنا اس وقت کافی مشکل ہے کیونکہ اس سے حکومت کو کافی مالی نقصان ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کافی کم ہیںڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 140، ڈیزل 126 روپے سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں پیٹرول 91 اور ڈیزل 105 روپے سے زائد فی لیٹر ہے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک حقیقت ہے اور ہمیں مستقبل میں اس میں اضافہ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے حکومت پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے انٹرنیشل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی بھی نئے معاہدے یا بڑے پیمانے پر مذاکرات نہیں کرسکتے لیکن یہ ضروری ہے کہ میکرو اکنامک فریم ورک پر توجہ دیں اور اس کے چیلنجز کا سامنا کریںانہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال سامنے ہیں لیکن ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے رسمی مذاکرات اور معاہدے میں شامل ہوں انہوں نے کہا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 40بلین ڈالر ہے ملکی ایکسپورٹ 13فیصد اضافے کیساتھ 20.6بلین ڈالرز ہیں جبکہ امپورٹ 44.5بلین دالر ہیں اس وقت بجٹ خسارہ 6.1فیصد ہے جس کے بڑھنے کے امکانات ہیں اور یہ 7فیصد تک جا سکتا ہے موبائل فون پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد مین 40بلین روپے اکٹھے ہوتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں سیاسی تعیناتیوں پر کسی قسم کی کارروائی کااختیار حاصل نہیں ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے کہا اور کسی بھی افیسر کا لگا کہ وہ شفاف الیکشن میں رکاوٹ بنے گا تو اس کو تبدیل کردیا جائیگا انہون نے کہ چئیرمین پیمرا کیلئے سپریم کورٹ نے کمیٹی بنا دی ہے اور اگر نیا چئیرمین پیمرا کی بھرتی کا عمل شفاف ہوا تو اس کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائیگا ۔

(جاری ہے)

پاکستان میں کافی عرصے سے قیمتوں کے حوالے سے ایک نظام رکھا گیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی فارمولے کے تحت ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک فارمولے اور نظام کے تحت ہوتی ہے جبکہ کچھ آرڈیننس ہیں جو اسے گورننس کرتے ہیںشمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ہماری پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی خلیجی مارکیٹوں سے منسلک ہوتی ہیں، لہٰذا اس میں رد و بدل ایک حقیقت ہے، جسے دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ خلیجی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا لیکن گزشتہ حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 7 جون تک اس کی قیمتیں برقرار رکھی جائیں جبکہ اس میں تبدیلی یا اضافے کا فیصلہ نگراں حکومت کے لیے چھوڑ دیا گیا تھانگراں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے پر ہماری حکومت نے اجلاس بلایا اور ماہ رمضان کی وجہ سے قیمتوں میں رد و بدل میں تاخیر کی کوشش کی گئی لیکن عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کے باعث صرف 50 فیصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا گیاانہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے کم رکھنا اس وقت کافی مشکل ہے کیونکہ اس سے حکومت کو کافی مالی نقصان ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کافی کم ہیںڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس وقت پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 140، ڈیزل 126 روپے سے زائد ہے جبکہ پاکستان میں پیٹرول 91 اور ڈیزل 105 روپے سے زائد فی لیٹر ہے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی ایک حقیقت ہے اور ہمیں مستقبل میں اس میں اضافہ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے حکومت پر پڑنے والے بوجھ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے انٹرنیشل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی بھی نئے معاہدے یا بڑے پیمانے پر مذاکرات نہیں کرسکتے لیکن یہ ضروری ہے کہ میکرو اکنامک فریم ورک پر توجہ دیں اور اس کے چیلنجز کا سامنا کریںانہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال سامنے ہیں لیکن ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے رسمی مذاکرات اور معاہدے میں شامل ہوں انہوں نے کہا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 40بلین ڈالر ہے ملکی ایکسپورٹ 13فیصد اضافے کیساتھ 20.6بلین ڈالرز ہیں جبکہ امپورٹ 44.5بلین دالر ہیں اس وقت بجٹ خسارہ 6.1فیصد ہے جس کے بڑھنے کے امکانات ہیں اور یہ 7فیصد تک جا سکتا ہے موبائل فون پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد مین 40بلین روپے اکٹھے ہوتے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں سیاسی تعیناتیوں پر کسی قسم کی کارروائی کااختیار حاصل نہیں ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے کہا اور کسی بھی افیسر کا لگا کہ وہ شفاف الیکشن میں رکاوٹ بنے گا تو اس کو تبدیل کردیا جائیگا انہون نے کہ چئیرمین پیمرا کیلئے سپریم کورٹ نے کمیٹی بنا دی ہے اور اگر نیا چئیرمین پیمرا کی بھرتی کا عمل شفاف ہوا تو اس کی تعیناتی کا عمل جلد مکمل کر لیا جائیگا ۔

شاہد عباس