آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی ،شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی بھرپور مدد کریں گے ،ْبیرسٹرعلی ظفر

شفاف اور آزادانہ الیکشن کا انعقاد ہماری ذمیداری اور منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی مینڈیٹ ہے ،ْ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،ْہمارے پاس 28 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کئی صلاحیت ہے، تمام پاور ہاؤسز چل رہے ہوں اور ڈیمز میں پانی موجود ہو تو 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ،ْفنی خرابی کی وجہ سے بجلی نہیں بن پا رہی، بجلی کو ٹرانسمٹ کرنے کیلئے بھی سسٹم بہتر نہیں ہے ،ْ جون میں بجلی کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے، دو ہزار میگا واٹ کے فرق سے اتنی زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے ،ْ وزیر اطلاعات آئی ایم ایف کے ساتھ نگران حکومت مذاکرات کر سکتی ہے نہ کوئی معاہدہ کر سکتی ہے ،ْشمشاد اختر

منگل جون 21:27

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی بھرپور مدد کریں گے ،ْآزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی ،ْشفاف اور آزادانہ الیکشن کا انعقاد ہماری ذمیداری اور منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی مینڈیٹ ہے ،ْ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،ْہمارے پاس 28 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کئی صلاحیت ہے، تمام پاور ہاؤسز چل رہے ہوں اور ڈیمز میں پانی موجود ہو تو 28 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ،ْفنی خرابی کی وجہ سے بجلی نہیں بن پا رہی، بجلی کو ٹرانسمٹ کرنے کیلئے بھی سسٹم بہتر نہیں ہے ،ْ جون میں بجلی کی طلب 23 سے 24 ہزار میگا واٹ ہے، دو ہزار میگا واٹ کے فرق سے اتنی زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہیے ۔

(جاری ہے)

منگل کو وزیر خزانہ شمشاد اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آزادی رائے کے بغیر جمہوریت مکمل نہیںچل سکتی، عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا ضروری ہے، عوامی آراء اور تجاویز بہتری میں مدد دیتی ہیں، نگران حکومت الیکشن کمیشن کی بھرپور مدد کرے گی، الیکشن کا شفاف اور آزادانہ انعقاد ہماری ذمہ داری ہے، قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی آئینی مینڈیٹ ہے، نگران کابینہ کے فیصلے قطعی غیر سیاسی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی بڑے فیصلے نہیں کرنے لیکن آنے والی حکومت کیلئے گائیڈ لائنز چھوڑ کر جائیں گے جن سے وہ فائدہ اٹھا سکتی ہے، ہم اپنی ذمہ داریاں پوری سچائی، ایمانداری، پاکستان سے محبت اور ملکی مفاد میں انجام دیں گے، ہماری اولین کوشش ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات صاف، شفاف اور پرامن ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو اپنے وسائل کے مطابق وسائل فراہم کرکے جائیں گے اور اس کیلئے اگر سخت فیصلے کرنا پڑے تو وہ بھی کرکے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 اے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی لئے معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے تاکہ ان پر تنقید اور تجزیہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسی دستاویز بھی تیار کی ہے جس میں بجلی کی پیداوار، طلب اور رسد کے حوالہ سے تمام تفصیلات موجود ہیں، یہ ہم سیاسی جماعتوں کو بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی ایک وجہ بجلی کی طلب و رسد میں فرق، دوسری ترسیلی نظام اور پاور پلانٹس میں فنی خرابی اور پانی کی کمی، تیسری وجہ ترسیل اور تقسیم کے نظام کا بہتر نہ ہونا اور چوتھی وجہ جہاں پر بجلی چوری ہو رہی ہے وہاں پر بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوڈ شیڈنگ کی چار بنیادی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار کے دو بڑے ذرائع ہیں جن میں ایک پانی اور دوسرا دیگر پاور پلانٹس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس ملک میں 28 ہزار میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ہے لیکن فنی خرابی کے باعث پیداواری صلاحیت پر اثر پڑتا ہے، اس قت 21 سے 22 ہزار میگاواٹ پیداوار ہے، بجلی کی طلب 23 سے 24 ہزار میگاواٹ ہے، طلب و رسد میں 2 ہزار میگاواٹ کا فرق ہے، موجودہ شارٹ فال سے اتنی لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے، حالیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ ڈیمز میں پانی کم ہونا ہے، گرمی بڑھنے سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا، پانی کی کمی سے پن بجلی کی پیداوار کم ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ پن بجلی میں کمی کی وجہ سے روات گرڈ سٹیشن کو بجلی کے جنوبی ترسیلی نظام سے منسلک کیا گیا جس سے فنی خرابی پیدا ہوئی، اس کے علاوہ پورٹ قاسم پاور پلانٹس جہاں سے 1300 میگاواٹ بجلی آ رہی تھی اس میں بھی فنی خرابی کی وجہ سے پیداوار متاثر ہوئی اور تیسری وجہ یہ تھی کہ بلوکی پاور سٹیشن جسے مئی میں ایک دو دن کیلئے چلایا گیا وہ بعد میں بند ہو گیا اور ایک ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آنے سے رک گئی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ لوڈشیڈنگ 28 مئی سے شروع ہوئی تھی کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا، ڈیموں میں پانی پچھلے کئی سالوں سے سب سے کم آیا ہے اور پن بجلی کی پیداوار صرف تین ہزار میگاواٹ رہ گئی جو کہ پچھلے سال 6 ہزار میگاواٹ تھی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور موسم کی صورتحال بہتر ہونے سے پن بجلی کی پیداوار تین ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر پانچ ہزار میگاواٹ ہو گئی ہے اور اس میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم پاور پلانٹس بھی بحال ہو گئے ہیں، 30 جون تک بجلی کی طلب و رسد میں پائے جانے والے فرق میں نمایاں کمی آ جائے گی جبکہ جولائی، اگست اور ستمبر میں بجلی کی طلب کم ہوتی جائے گی اور رسد بڑھتی جائے گی جس سے لوڈ شیڈنگ مزید کنٹرول ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جہاں جہاں بجلی کی پیداوار بڑھی ہے وہاں ٹرانسمیشن سسٹم کو بہتر نہیں کیا گیا، پچھلے 40 سال سے ہم نے کوئی ڈیم نہیں بنایا، زراعت کیلئے آبپاشی کا ہمارا طریقہ کار بھی سو سال پرانا ہے، نئے طریقہ کار پر ہم نے کام نہیں کیا، آبی ذخائر اور بجلی کی بچت کیلئے بھی کام نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا واضح مینڈیٹ ہے کہ ہم بلیم گیم میں نہیں پڑیں گے، یہ نہ تو ہمارا مینڈیٹ ہے اور نہ ہماری پالیسی ہے، انتخابات کرا کر ہم چلے جائیں گے۔