بلدیہ ٹھٹھہ کے ایڈمنسٹریٹر کے خلاف ملازمین کا احتجاج، کام چھوڑ ہڑتال، عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

درجنوں ملازمین نے ایڈمنسٹریٹر کی زیادتیوں اور ناروا رویے کے خلاف ارباب سجاد سموں، راجو قریشی و دیگر کی قیادت میں کام کا بائیکاٹ کرکے بلدیہ کے دفتر سے پریس کلب ٹھٹھہ تک احتجاجی ریلی نکالی

منگل جون 21:44

ٹھٹھہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) بلدیہ ٹھٹھہ کے ایڈمنسٹریٹر کے خلاف ملازمین کا احتجاج،، کام چھوڑ ہڑتال، عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ ٹھٹھہ کے درجنوں ملازمین نے ایڈمنسٹریٹر کی زیادتیوں اور ناروا رویے کے خلاف ارباب سجاد سموں، راجو قریشی و دیگر کی قیادت میں کام کا بائیکاٹ کرکے بلدیہ کے دفتر سے پریس کلب ٹھٹھہ تک احتجاجی ریلی نکالی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر نعرے درج تھے، مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا اور زوردار نعرے بازی کی۔

اس موقع پر دھرنے کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ سے بلدیہ کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملی ہیں جس کے باعث وہ شدید ذہنی اور مالی پریشانی سے دوچار ہیں، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے بجائے کرپشن اور سیاسی وڈیروں کی خواہشات پوری کرنے میں مصروف ہیں، تنخواہ نہ ملنے اور ایڈمنسٹریٹر کے ناروا رویے کے باعث ملازمین خود سوزی جیسا انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایڈمنسٹریٹر کو فوری ہٹا کر ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جائیں اور خود سوزی کی کوشش کرنے والے ان کے ساتھی اصغر شاہ کا سرکاری خرچے پر علاج کرایا جائے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ پیر کے روز بلدیہ ٹھٹھہ کے ملازم اصغر شاہ نے تنخواہ نہ ملنے پر ایڈمنسٹریٹر کے سامنے احتجاجاً خود پر پیٹرول چھڑکنے کے بعد آگ لگا کر خود سوزی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ جھلس کر شدید زخمی ہوگیا، زخمی کو سول اسپتال ٹھٹھہ سے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے کراچی لیجایا گیا ہے۔ دریں اثنا ذرائع کے مطابق چیف سکریٹری سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔