خاتون صحافی میمونہ عارف کو زہر دے کر قتل کرنے کا انکشاف

پولیس نے 5 ماہ بعد مقدمہ درج کرکے تحقیقات از سر نو شروع کردیں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ نے قاتلوں کا پول کھول دیا

منگل جون 22:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) خاتون صحافی میمونہ عارف کو زہر دے کر قتل کرنے کے انکشاف کے بعد پولیس نے 5 ماہ بعد مقدمہ درج کرکے تحقیقات از سر نو شروع کردیں‘ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے حکم پر بنائے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ نے میمونہ عارف کے قاتلوں کا پول کھول دیا ہے پولیس نے طاہر مسعود نامی صحافی کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ جنوری 2018 ء کو اسلام آباد پولیس نے قائدین صحافت سے زبردستی ڈیڈ باڈی قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کروایا جس کے بعد معہدے اور دیگر اعضاء کے نمونہ جات فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوائے گئے ۔ جس کے بعد بااثر مافیا کے دبائوکی وجہ سے من پسند کی فرانزک رپورٹ تین ماہ لاہور لیبارٹری سے منگوائی گئی لیکن شروع دن سے پولیس کی سست روی کی وجہ سے تفتیش بند گلی میں داخل ہوگئی پولیس کی جانب سے مقتولہ کے موبائل کا فرانزک ٹیسٹ کروانے سے گریز کیا گیا اور تفتیش کے تمام تر مراحل کو اس وقت ایس پی سٹی کے عہدے پر تعینات افسر خود دیکھتے رہے لیکن بعد ازاں مذکورہ افسر ایس پی سی آئی اے کے عہدے پر براجمان ہوکر بھی روایتی انداز میں تفتیش پر اثر انداز ہونے کیلئے کوشاں رہے لیکن بعد ازاں پانچ ماہ بعد آن لائن کی کاوشیں رنگ لے آئیں اور پولیس نے فرانزک لیبارٹری لاہور سے موصول ہونے والی رپورٹ میں وجہ موت کا تعین کرنے میں ناکامی کے بعد اسلام آباد انتظامیہ کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

(جاری ہے)

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق احمد کے حکم پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ڈاکٹر امبرین خالد کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا 24 مئی کو تشکیل دیئے گئے میڈیکل بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں میڈیکل بورڈ نے تمام تر حقائق سامنے لاتے ہوئے اس باتکی تصدیق کی گئی کہ مقتولہ کو زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شروع دن سے شہر کی چند بااثر شخصیات کے دبائو پر پولیس میرٹ پر تفتیش سے ٹال مٹول کرتی رہی یہاں تک کہ پولیس کی جانب سے مقتولہ کی رہائش کو بھی خفیہ رکھا گیا چند شخصیات کے سوا کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

آسٹریلیا اور انڈیا سے واپسی کے بعد اچانک سے نیشنل پریس کلب کی گورننگ باڈی اور ورثاء کو بروقت اطلاع نہ کئے جانے کے حوالے سے بھی پولیس وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز شروع کردیا ہے اس حوالے سے آن لائن کے استفسار پر ایس پی سی ائی اے زبیر شیخ کا کہنا تھا کہ بعد ازاں انہیں سی آئی اے میں ٹرانسفر کردیا گیا میرا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے پولیس کی جانب سے مقتولہ کے فرانزک ٹیسٹ اور موبائل کی ۔۔۔۔۔۔۔ پر ڈیٹا تک لینے سے گریز کئے جانے کے حوالے سے ایس پی سی آئی اے کا مزید کہنا تھا اس میں ایسی کون سی بات ہے پانچ مہینے بعد بھی موبائل کا ڈیٹآ اور فرآنزک کروائی جاسکتی ہے۔