نگران وفاقی وزیر خزانہ و منصوبہ بندی کا وزارت منصوبہ بندی کا دورہ

وفاقی وزیر کا اعلی افسران سے تعارف ،شعبہ جات اور وزارت کے ماتحت جاری منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ لی ہمیں تمام حالات میں اپنی توجہ شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے،وزارت منصوبہ بندی کی کارکردگی حکومتی کارکردگی کا تعین کرتی ہے پائیدار ترقی کے اھداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن کا کردار قابل ستائش ہے،ڈاکٹرشمشاد اختر کی گفتگو

منگل جون 22:24

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) سیکریٹری وزارت منصوبہ بندی شعیب احمد صدیقی کی جانب سے انتظامی امور اور وزارت کے معاملات اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ہمیں تمام حالات میں اپنی توجہ شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے، وزارت منصوبہ بندی تمام وزارتوں میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی کارکردگی حکومتی کارکردگی کا تعین کرتی ہے، منصوبہ بندی کمیشن حکومت کے دماغ اور تھنک ٹینک کی حیثیت رکھتا ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی ہمیشہ سے ہی ذہین لوگوں کا مرکز رہی ہے، مجھے خوشی ہے کہ میں نے بھی اپنے کیریئر کا آغاز منصوبہ بندی کمیشن سے کیا، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہاکہ اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد منصوبہ بندی کمیشن کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے، صوبوں کی رہنمائی کے لئے منصوبہ بندی کمیشن و وزارت منصوبہ بندی کا صوبوں کے ساتھ تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اھداف کے حصول کے لئے وزارت منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن کا کردار قابل ستائش ہے، پائیدار ترقی کے اھداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے صوبوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کے فروغ اور مزید وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ کم ترقی یافتہ ممالک آبادی میں اضافے کا رجحان عالمی سطح پر ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، آبادی کے اضافے کو قابو میں لانے اور بنیاد ضروریات زندگی کی فراہمی کیلئے وسائل کی دستیابی یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی کے حوالے سے منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی کے لئے بنگلہ دیش کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی اور نتائج کے حصول کے کئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے،متعدد ممالک نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طئے کی ہیں، ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نتیجے حکومتی کارکردگی میں اضافہ اور جدید رجحانات کا فروغ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :