حافظ آبا دکے نواحی گائوں نالہ کلاں میںپانچ بہنوں کا اکلوتا 17سالہ بھائی مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل

تھانہ کسوکی پولیس نے قتل کو بجلی کے کرنٹ سے ہلاکت قرار دے کرمقتول کے ورثاء کو ٹرخا دیا، پوسٹمارٹم رپورٹ آنے پر اجتماعی زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تو ظالمانہ قتل کو چھپانے کا بھانڈا پھوٹ گیا، ورثاء پولیس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے

منگل جون 22:24

حافظ آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) حافظ آبا دکے نواحی گائوں نالہ کلاں میںپانچ بہنوں کا اکلوتا 17سالہ بھائی مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل،، تھانہ کسوکی پولیس نے قتل کو بجلی کے کرنٹ سے ہلاکت قرار دے کرمقتول کے مظلوم ورثاء کو ٹرخا دیا، پوسٹمارٹم رپورٹ آنے پر اجتماعی زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تو ظالمانہ قتل کو چھپانے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

جس پر ورثاء پولیس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔۔ ڈی پی او ،سردار غیاث گل نے ایس ایچ او میاںذوالفقار کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ موضع نالی کلاں بشمولہ کوٹ حسن خاں کے رہائشی محنت کش اصغر علی کی قیادت میں اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ تین دن قبل8جون کواس کے 17سالہ بیٹے اورپانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی فخر زمان کو اسی گائوں کے رہائشی بااثر شخص رانا لیاقت علی کے دو بیٹے آصف اور ناصر اپنے ملازمین عبدالرحمان عرف میشو، شاہد مصلی، سفیان عرف بادشاہ اور ارشد ولد یونس کے ہمراہ صبح تقریباً9بجے گھر سے بلا کر اپنے ڈیرے پر لے گئے جہاں انہوں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ زبردستی اجتماعی زیادتی کا ارتکاب کیا اور بعد ازاں اسے تشدد کرکے قتل کر دیا اور نعش ٹیوب ویل کی پانی والی حوضی میں پھنسا دی اور خود موقع سے فرار ہو گئے۔

(جاری ہے)

دن تقریباً2بجے گھر والوں کو اطلاع ملی کہ فخر زمان کی نعش مذکورہ مقام پر پڑی ہے۔ جس پر تھانہ کسوکی پولیس کو قتل کی اطلاع دی گئی جس پر ڈی ایس پی صدر سرکل میاں توصیف اور ایس ایچ او بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے ملزمان کی مبینہ ملی بھگت سے قتل کو بجلی کے کرنٹ سے ہلاکت قرار دے کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تاہم تین دن گذرنے کے بعد پوسٹمارٹم رپورٹ میں اجتماعی زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہو نے پر مقتول کے ورثاء پولیس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔

جس پر مقتول کے ورثاء نے ڈی پی او سردار غیاث گل سے ان کے دفتر میں ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا تو ڈی پی او نے ایس ایچ او میاں ذوالفقار کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ۔