چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کا دورہ ،معمولی جرائم میں سزا یافتہ 20 ،جرمانے کی ادائیگی پر 12قیدی رہا

جسٹس یاور علی نے جیل کے کچن، ہسپتال اور ڈسپنسری کامعائنہ کر کے معاملات پر اطمینان کا اظہار کیا ،قیدیوں میں تحائف تقسیم کیے

منگل جون 22:26

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی نے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کا دورہ کر کے معمولی جرائم میں سزا یافتہ 20 اور جرمانے کی ادائیگی پر 12قیدی رہا کروا دیئے ، انہوں نے جیل کے کچن، ہسپتال اور ڈسپنسری کامعائنہ کر کے معاملات پر اطمینان کا اظہار کیا اور قیدیوں میں تحائف تقسیم کیے ۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس یاور علی کے ہمراہ جسٹس انوارالحق، سیشن جج عابدحسین قریشی، ڈی آئی جی ملک مبشر،سپرنٹنڈنٹ جیل اعجازاصغر بھی موجود تھے۔

قیدیوں سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یاور علی نے کہا کہ جیل میں کھانے کے معیار اورانتظامات سے مطمئن ہوں۔خواتین کے لئے ووکیشنل ٹریننگ پروگرام قابل ستائش ہیمدوبارہ پھر دورہ کروں گا۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ رہا ہونیوالے قیدی باہر جا کر معاشرے کا مفید شہری بنیں۔ قیدیوں سے خطاب میں سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی نے سینٹرل کوٹ لکھپت جیل کو انتظامات کے حوالے سے پنجاب کا بہترین جیل قراردیا ۔

اس موقع پر جیل وارڈرز نے اپ گریڈیشن کے لئے چیف جسٹس کو درخواست دی جبکہ20معمولی جرائم والے قیدی رہا، 12قیدی جرمانوں کی ادائیگی کے بعد رہا بھی کیا گیا اوراختتام پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے قیدیوں میں تحائف تقسیم کئے گئے۔چیف جسٹس نے ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن ملک مبشر خان کو عملے سمیت بہترین انتظامات پرشاباش دی۔