سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت

مشرف کل دوپہر 2 بجے تک آ جائیں ورنہ قانون کے مطابق کاروائی کریں گے؛ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 11:20

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے کل دوپہر 2 بجے ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔13جون 2018ء) سپریم کورٹ نےپرویزمشرف کووطن واپسی کیلیےکل دوپہر2 بجےتک کی مہلت دےدی ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس پرعمل درآمد کے معاملے پرسماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے حکم دیا کہ پرویز مشرف کل 2 بجے تک آجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ مشرف کے پاس کل دوپہر 2 بجے کا وقت ہے وہ ملک واپس آ جائیں ورنہ قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔

کہہ چکے ہیں کہ مشرف کو تحفظ دیں گے لکھ کر دینے کے پابند نہیں ہیں۔۔سپریم کورٹ وطن واپسی کے لیے پرویز مشرف کی شرائط کی پابند نہیں ہے۔مشرف واپس نہ آئےتوکاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونےدیں گے۔

(جاری ہے)

پرویزمشرف مشرف کوکس بات کاتحفظ چاہیے،کس خوف میں مبتلاہیں۔اتنابڑاکمانڈوخوف کیسےکھاگیا۔۔پرویز مشرف کمانڈوہیں توآکردکھائیں۔جب کہ پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے میری غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا۔

چیف جسٹس کا ریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پرویز مشرف ایئرایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈبنادیتےہیں۔یاد رہے کہ عدالت نے پرویز مشرف کو وطن واپسی پر مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کروائی تھی اور کہا تھا کہ مشرف پاکستان آئیں ان کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔جب کہ عدالت نے پرویز مشرف کو الیکشن لڑنے کی بھی اجازت دے دی تھی۔اسی متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی تنقید کی اور کہا کہ کہ سب کچھ قانون سے بالاتر ہو رہا ہے، مشرف جیسے شخص کو کیسے گارنٹی دی جا سکتی ہے؟ماری عقل و فراست میں یہ بات نہیں آ رہی،کدھر گیا آئین و قانون، آرٹیکل 6 اور کدھر گئے سارے مقدمے؟سابقوزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ 'مشرف کے خلاف ایک طرف تو سنگین غداری کا مقدمہ چل رہا ہے اور دوسری طرف انہیں الیکشنلڑنےکی مشروط اجازت مل گئی جبکہ مجھے تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔