سپریم کورٹ نے شیخ رشید کو اہل قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ، اختلافی نوٹ 28 صفحات پر مشتمل

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 12:10

سپریم کورٹ نے شیخ رشید کو اہل قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 جون 2018ء) : سپریم کورٹ آف پاکستان نے عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید کو اہل قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ 23 صفحات کا اکثریتی فیصلہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا۔ تحریری فیصلے کے ساتھ جسٹس قاجی فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے جو 28 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گھر کی ادائیگی کم کرنے کا سوال اُٹھایا گیا۔

شیخ رشید کے علاوہ دیگر الاٹیز کی زائد ادائیگی کے شواہد نہیں دئے گئے۔شواہد نہ ہونے پر شیخ رشید کے بیان کو غلط بیانی قرار نہیں دیا جا سکتا،شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں گھر اور قیمت دونوں ظاہر کیے۔ ظاہر کیے گئے ذرائع آمدن کے علاوہ کوئی اکاؤنٹ یا اثاثہ سامنے نہیں لایا گیا۔۔الیکشن میں بد انتظامی کے نکتے پر بحث نہیں کی گئی۔

(جاری ہے)

الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل میں ٹھوس مواد موجود نہیں تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے 28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں 7 سوالات اُٹھائے۔کیا کاغذات نامزدگی میں ہر غلط بیانی کا نتیجہ نا اہلی ہے؟ کیا آرٹیکل 225 انتخابی تنازعات میں 184/3کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ کیا 184/3 میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہل کیا جا سکتا ہے؟آرٹیکل 62 ون ایف کے میں کورٹ آف لاء کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے؟عدالتی کارروائی کے دوران غلط بیانی کو نااہلی کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے؟کیا کسی شخص کی انتخابی عذرداری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے؟معاملہ عوامی مفاد کا ہو تو کیا شواہد فراہمی سے متعلق قوانین کا اطلاق ہو گا؟ غلط بیانی پر نا اہلی کی مدت تاحیات ہو گی یا آئندہ الیکشن تک ؟ یاد رہے کہ آج صبح سپریم کورٹ نے شیخ رشید کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست خارج کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو اہل قرار دے دیا تھا۔

شیخ رشید کی نااہلی کے لیے درخواست مسلم لیگ (ن) کے رہنما شکیل اعوان نے دائر کی تھی جس میں ان پر 2013 کے انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔لیگی رہنما کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی تھی اور 20 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 85 دن بعد سنایا گیا۔

سپریم کورٹ نے آج مختصر فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کی نااہلی کے لیے لیگی رہنما شکیل اعوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو اہل قرار دے دیا۔۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 'شیخ رشید انتخابات 2018 لڑسکیں گے'۔شیخ رشید کے خلاف درخواست پر فیصلہ 2 کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے سنایا گیا اور فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ بھی لکھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ 'معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے'۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار شکیل اعوان نے شیخ رشید کی اہلیت کے خلاف درخواست میں ان پر 2013 کے عام انتخابات میں اثاثے چھپانے کا الزام عا ئد کیا تھا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرتے ہوئے زرعی زمین اور آمدن ظاہر نہیں کی اس لیے وہ ممبر قومی اسمبلی کے لیے اہل نہیں ہیں، شیخ رشید نے گھر کی قیمت ایک کروڑ 2 لاکھ ظاہر کی جب کہ گھر کی بکنگ 4 کروڑ 80 لاکھ سے شروع کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ فتح جنگ کے موضع رامہ میں زمین زیادہ لیکن کاغذات میں کم ظاہر کی گئی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق شیخ رشید کی زمین ایک ہزار 81 کنال ہے لیکن انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 968 کنال اور 13 مرلہ ظاہر کی ہے۔شکیل اعوان کے وکیل نے اپنے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ شیخ رشید نے اثاثے چھپائے اور غلطی تسلیم کی، اس پر نا اہلی بنتی ہے۔

شیخ رشید کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت میں پیش کیے گئے کاغذات نامزدگی نا مکمل ہیں۔ میرے موکل نے سب کچھ ظاہر کیا ہے، اثاثے نہیں چھپائے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد 20 مارچ کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا۔ شکیل اعوان نے سپریم کورٹ میں جلد فیصلہ سنانے کی بھی استدعا کی تھی۔ جس کے بعد عدالت نے آج صبح فیصلہ سناتے ہوئے شیخ رشید کی نااہلی کی درخواست خارج کر دی۔