آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ نے سردار خالد ابراہیم توہین عدالت کیس کی آئندہ سماعت 3جولائی مقرر کر دی

آئین ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے جس کی ضمانت آزادجموں وکشمیر عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 4میں دیا گیا

بدھ جون 15:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ نے سردار خالد ابراہیم توہین عدالت کیس کی آئندہ سماعت 3جولائی مقرر کر دی ،گزشتہ روز چیف جسٹس محمد ابراہیم ضیاء ،جسٹس راجا سعید اکرم پر مشتمل بینچ نے روبکار عدالت بنام سرار خالد ابراہیم،راجا امجد علی خان بنام سردار خالد ابراہیم ،سردار افتخار احمد خان بنام سردار خالد ابراہیم رٹ پٹیشنز کی سماعت کی ،،عدالت نے قرار دیا کہ معاملہ آزادی اظہار رائے ،رکن اسمبلی اور پریس کے متعلقہ ہے ،بلا شبہ مطابق آئین ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے جس کی ضمانت آزادجموں وکشمیر عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 4میں دیا گیا ،آئین میں حدود مقرر ہیں اور توہین عدالت ،شائستگی ،اخلاقی ودیگر حدود کی وضاحت کی گئی ہے ،رکن اسمبلی ہونے کے امر کو مد نظر رکھتے ہوئے باوجود اس کے کہ شائع شدہ بیانا ت بظاہر قابل اعتراض اور نہ صرف توہین عدالت کے زمرہ میں آتے ہیں بلکہ دشنام طرازی اور بہتان تراشی پر بھی مبنی ہیں ،،عدالت نے مسئول کو اصالتاً حاضری کے لیے طلب نہ کیا جائے ،محض وضاحت طلب کی گئی ہے جو قانون و شریعت کا تقاضہ بھی ہے کہ جب کوئی خبر پہنچے تو اس کی تحقیق کر لی جائے جس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ متعلقہ شخص سے وضاحت طلب کی جائے ،ناشائستہ ،اشتعال انگیزی اور مبنی بر دشنام طرازی شائع شدہ اخباری بیانیہ مسئول کے باوجود عدالت بلا اشتعال معاملہ کو فوری کارروائی سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری نبھائے گی ،تاہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پریس کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور قانون میں درد حود کا خیال رکھتے ہوئے آزادی اظہار رائے کے حق کا استعمال کرنا چاہیے ،جو آئین و قانون کی حدود کو پامال کرے گا اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا ،خواہ و ہ رکن اسمبلی ہو ،عام شخص ہو یا پریس ہو ،،عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ یہ تاثر بھی خلاف حقیقت قائم کیا جا رہا ہے کہ اداروں میں تصادم ہے ،عدالتیں تصادم ختم کرنے کے لیے ہیں نہ کہ تصادم کرنے کیلئے ،تصادم کی بنیاد آئینی اور قانونی حدود سے تجاوز ہے ،عدالتوں کی ذمہ داری پامال شدہ حقوق کو پامال کرنا ہے ،معاملہ ایک رکن اسمبلی کے انفرادی فعل کا ہے نہ کہ پورے ادارے کا ،،عدالت سپیکر اور اراکین اسمبلی جو مقننہ کا حصہ ہیں کو اسی طرح قابل احترام سمجھتی ہے جس طرح عدالت کا احترام ہے ،یہ تاثر کہ رکن اسمبلی کو اسمبلی میں ہر طرح کے اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے حقائق اور آئین کے منافی ہے ،یہ پہلا معاملہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی لاتعداد معاملات عدالتوں میں زیر بحث آئے جن میں اراکین اسمبلی کی حدود کا واضح طور پر تعین کیا گیا ،،عدالت نے کارروائی توہین عدالت کے ضمن میں تاز ترین مطبوعہ مقدمہ عنوانی ’’کارروائی توہین عدالت بخلاف نہال ہاشمی‘‘( ۸۱۰۲ایس سی ایم آر ۶۵۵)اور اس سے پہلے مشہور زمانہ مقدمہ عنوانی ’’محمد اظہر صدیقی بنام وفاق پاکستان وغیرہ ‘‘(پی ایل ڈی ۲۱۰۲ سپریم کورٹ ۴۷۷ )کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کسی ممبر اسمبلی کی نااہلی ثابت ہوتی ہے تو عدالت براہ راست اُسے نااہل قرار دینے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت جاری کرسکتی ہے اور کسی دوسرے ادارے کا اس سلسلے میں کوئی کردار نہ ہے،تحریر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر ر سہہ عرضی ہا مسئول کے مختلف تواریخ کے عمل سے متعلق ہیں اور مختلف تاریخوں میں دائر کی گئیں۔

(جاری ہے)

’’روبکار عدالت بنام سردار خالد ابراہیم خان ‘‘اور ’’راجہ امجد علی خان وغیرہ بنام سردار خالد ابراہیم خان ‘‘میں آج مسئول سے وضاحت طلب کی گئی تھی جس کی جانب سے مس نبیلہ ایوب ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ اور وضاحت پیش کرنے کی نسبت مہلت طلب کی۔ مہلت دی جاتی ہے۔ عرضی ’’سردار افتخار بیگ وغیرہ بنام سرکار خالد ابراہیم خان ‘‘مسئول کی9 جون2018؁ء کو شائع شدہ بیان سے متعلق ہے ۔ اس عرضی کی نقل مسئول کو برائے وضاحت بھیجی جائے۔آئندہ تاریخ سماعت 3جولائی کو مقرر کی گئی ہے ۔