افغانستان ،امن کے لئے پر امید،

پاکستان کی پشتون تحفظ موومنٹ قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے،حامد کرزئی امریکی حکومت پاکستان پر دبائو ڈالے کہ وہ مذہب پسند، شدت پسندوں کی مبینہ حمایت ترک کرے،جنگجوئوںنے پہلی بار لچک کا مظاہرہ کیا ہے،مستقل حل کے لئے بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں، سابق افغان صدر

بدھ جون 15:27

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) سابق افغان صدر کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے پر امید ہوں، پاکستان کی پشتون تحفظ موومنٹ خطے میں قیام امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے،جنگجوئوؔں (طالبان )نے پہلی بار لچک کا مظاہرہ کیا ہے،مستقل حل کے لئے بہت سی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں، امریکی حکومت پاکستان پر دبا نہیں ڈال رہی کہ وہ مذہب پسند شدت پسندوں کی مبینہ حمایت ترک کر دے،غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق افغان صدر کرزئی نے گلوبل میڈیا فورم کے ایک سیشن سے خطاب میں کہا ہے کہ وہ افغانستان میں مستقل امن کے لیے پرامید ہیں۔

کرزئی کے مطابق پاکستان کی پشتون تحفظ موومنٹ خطے میں قیام امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے منگل کے دن گلوبل میڈیا فورم کے ایک سیشن میں امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں مستقل امن قائم ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

جرمن شہر بون میں ہونے والے اس تین روزہ ایونٹ کے دوسرے دن کرزئی نے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلانات سولہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہیں۔

امریکی اتحادی فورسز نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا، جس کے بعد پہلی مرتبہ ان جنگجوں نے عارضی طور پر جنگ بند کرتے ہوئے اپنے رویوں میں کچھ لچک دکھائی ہے۔ تاہم اس جنگ بندی سے قبل ہی طالبان کی متعدد پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔حامد کرزئی نے کہا کہ اگرچہ طالبان نے عارضی فائر بندی کا اعلان کیا ہے تاہم یہ پیشرفت مستقل بھی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس سنگ میل کو عبور کرنے کی راہ میں ابھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دیگر مغربی ممالک کو افغان جنگ میں کی جانے والی اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔حامد کرزئی نے زور دیا کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ افغانستان پر جنگ مسلط کی گئی ہے، اس تنازعے کے تمام فریق بشمول امریکا اور پاکستان کو ایک ڈیل پر پہنچنا ہو گا تاکہ اس جنگ بندی کو مستقل بنایا جا سکے۔

کابل حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ طالبان جنگجوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں اور افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔حامد کرزئی نے اپنے پرانے موقف کو پھر دہرایا کہ امریکی حکومت پاکستان پر دبا نہیں ڈال رہی کہ وہ مذہب پسند شدت پسندوں کی مبینہ حمایت ترک کر دے، بطور افغان، طالبان افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ انہیں مذاکرات کی میز پر دوبارہ لایا جا سکتا ہے۔ تاہم قیام امن کے لیے ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔