افغانستان، یکطرفہ حکومتی جنگ بندی کا پہلا روز،

27افراد ہلاک،رپورٹ عارضی حکومتی جنگ بندی مفید ثابت نہ ہو سکی، طالبان کا 16تا18جون جنگ بندی کا اعلان

بدھ جون 15:27

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) افغان حکومت کی یکطرفہ جنگ بندی کے پہلے روز ضلعی گورنر سمیت 27افراد کی ہلاکت ہوئی، افغان حکومت کی عارضی جنگ بندی سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو سکا، افغان طالبان نے 16تا18جون تک جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی رپورٹس کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے اعلان کردہ یکطرفہ جنگ بندی پر عملدرآمد منگل بارہ جون سے شروع ہو گیا ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران البتہ طالبان عسکریت پسندوں کے کئی حملوں میں ایک ضلعی گورنر سمیت ستائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔افغان طالبان نے صوبہ فریاب میں کوہستان ڈسٹرکٹ کے گورنر عبدالرحمان پناہ کو ہلاک کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان جاوید بیدار نے ضلعی گورنر اور بارہ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

(جاری ہے)

ان کے بقول صوبہ فریاب میں کوہستان ڈسٹرکٹ کا مرکز اب طالبان کے قبضے میں ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے پچھلے ہفتے غیر متوقع طور پر طالبان کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں میں عارضی فائر بندی کا اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ اعلان رمضان کے اختتامی ایام کے تناظر میں کیا۔ اس فائر بندی کا اطلاق آج منگل سے ہو چکا ہے۔ دریں اثنا اس کے جواب میں طالبان نے بھی سولہ تا اٹھارہ جون جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔پچھلے چوبیس گھٹنوں کے دوران البتہ افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان باغیوں کے حملوں میں ستائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سر پل صوبے میں سید نامی ضلع میں طالبان نے حملہ کرتے ہوئے چودہ سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ صوبائی کونسل کے رکن نور آغا نوری نے بتایا کہ اس حملے میں پچیس دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ اسی دوران مشرقی صوبے غزنی میں بھی پانچ سکیورٹی اہلکار ایسے ہی طالبان باغیوں کے حملے میں مارے گئے جبکہ چھبیس افراد اس حملے میں زخمی بھی ہوئے۔