تمام سیاسی جماعتیں انتخابی منشور میں تعلیم کو اولین ترجیح دیں،کنور محمد دلشاد

قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے، اعلی تعلیم تک رسائی کو ہر حد تک ممکن بنایا جائے، سابق وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن

بدھ جون 15:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) سابق وفاقی سیکر ٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے، تمام سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں تعلیم کو اولین ترجیحات میں رکھیں،اعلی تعلیم تک رسائی کو ہر حد تک ممکن بنایا جائے اور اس کے لئے عوامی وسائل کو بروئے کار لایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جنرل الیکشن 2018 سے قبل اعلی تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے جاری ہونے والے 18 نکاتی ایجنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ایجنڈا نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن و دیگر سٹیک ہولڈرز کے اشترا ک سے انٹر یونیورسٹی کنثورشیم برائے فروغ سوشل سائسنز اور فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن کی جانب سے جاری کیا گیاہے ہے جس میں کہا گیاہے کہ 18ویں آئینی ترمیم پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے اور مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کے مطابق تعلیمی بجٹ مجموعی بجٹ کا 4 فیصد جبکہ ٹوٹل تعلیمی بجٹ کا 25 فیصد اعلی تعلیم کے لئے مختص کیا جانا چاہئے۔

(جاری ہے)

18نکاتی ایجنڈے میں ٹیچرز کی ٹریننگ اور تحقیق کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ طلبہ یونینز کی بحالی اور طلبا کے منتخب نمائندگان کی یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں بطور ممبر شمولیت، ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کی حوصلہ افزائی اور اس حوالے سے کمیونٹی کالجز اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیز کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے ۔ایجنڈے میں مزید کہا گیا ہے کہ وائس چانسلرز کی تعیناتی میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہونا چاہئے۔

اٹھارہ نکاتی ایجنڈا کے مطابق جامعات کی خودمختاری اور اکادمی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ جامعات کی سینڈیکیٹ کی تشکیل میں جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی ممبران کی متوازن نمائندگی رکھی جائے۔جامعات کی رینکنگ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر بنانے کے لئے خصوصی پروگرام تشکیل دیئے جائیں۔ قومی اور صوبائی دونوں سطح پر کوالٹی اشورنس، فنڈنگ، ریگولیرٹی فریم ورک اور رینکنگ کے معاملات علیحدہ علیحدہ طور پر دیکھے جائیں۔

فیکلٹی کی تربیت کے لئے ذیادہ سے ذیادہ مواقع فراہم کئے جائیں۔ سینٹ کی مشترکہ قرار داد کے مطابق ریٹا ئر منٹ کی عمر 60 کے بجائے 65 کی جائے اور یونیورسٹی فیکلٹی اور محققین کے لئے ٹیکس میں 75 فیصد رعایت برتی جائے۔ صوبائی اور وفاقی دونوں ہائر ایجوکیشن کمیشنز کو خودمختاری اور بجٹ میں اضافے کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔ بے روزگار پی ایچ ڈی ہولڈرز کی ملازمتوں کے لئے خصوصی پالیسی مرتب کی جائے۔کنور محمد دلشاد کے مطابق نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو 18نکاتی ایجنڈا بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے ماہرین تعلیم کا ایک وفد تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات بھی کرے گا۔