ایف بی آر صنعتکاروں کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی بنائے ‘پیاف

ریفنڈز کی ادائیگیاںصنعتکاروں اور برآمد کنندگان کا دیرینہ مسئلہ ہے اگر وقت پر نہیں ہوئیں تو انکا کوئی فائدہ نہیں ہے‘عہدیداران

بدھ جون 16:38

ایف بی آر صنعتکاروں کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے ایف بی آرکی جانب سے ریونیو وصولیوںکے مقرررہ اہداف میں مصنوعی گروتھ ظاہر کرنے کیلئے بزنس کمیونٹی کے 200ارب سے زائد کے ریفنڈ کلیم روکنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی سے برآمدکنندگان پہلے سے ہی سرمائے کی کمی کا شکار ہیں جس کے باعث درجنوں فیکٹریاں بند ہونے اور لاکھوں ورکرز کی بیروز گاری کا خدشہ ہے ۔

سیلز ٹیکس ریفنڈ نہ ملنے سے برآمد کنندگان ملکی اشیاء بیرون ملک برآمدات میں عدم دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں جس سے ملکی برآمدات کمی کا شکار ہیںسیلز ٹیکس ریفنڈز ادا نہ کرنے سے ملکی برآمدات کمی کا شکار اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔

(جاری ہے)

سابق حکومت صنعتکاروں کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کا وعدہ کر تی رہی لیکن رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مکمل ادائیگی نہ کی جاسکی اور اس کی مالیت200ارب تک پہنچ چکی ہے اس لیے ایف بی آر صنعتکاروں کی200ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

تاکہ برآمدکنندگان دلجمعی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کرکے حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرسکیں اور تجارتی خسارہ میں بھی کمی واقع ہو۔چیئرمین عرفان اقبال شیخ نے وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ریفنڈز کی ادائیگیاںصنعتکاروں اور برآمد کننگان کا دیرینہ مسئلہ ہے اگر وقت پر نہیں ہوئیں تو انکا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

پیداواری لاگت میں اضافے اور برآمدات میں گراوٹ سے صنعتکاراور برآمد کننگان کافی پریشان ہیں ۔ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ ریفنڈز کی مرحلہ وار ادائیگی کی بجائے یکمشت ادائیگیاں کی جائیں تاکہ تاکہ کیش فلو کی صورتحال بہتر ہو سکے اورگرتی ہوئی برآمدات کو سہارا ملے۔سیلز ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگی کا آسان طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ برآمدکنندگان کو ان کے ریفنڈ فوری حاصل ہوسکیں اور انہیں سرمایہ کی قلت کا سامنانہ کرنا پڑے۔