لاہور،خدیجہ صدیقی کیس،سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ابتدائی سماعت کے بعد اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لی

بدھ جون 21:41

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ابتدائی سماعت کے بعد اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لی اور قرار دیا کہ اپیل پر مزید کارروائی موسم گرما کی تعطیلات بعد ہوگی۔ عدالت نے ملزم شاہ حسین کو ایک لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔۔سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ خدیجہ صدیقی کی اپیل پر سماعت کی جس میں ہائیکورٹ کے ملزم شاہ حسین کو بری کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔

سماعت کے دوران خدیجہ صدیقی اور شاہ حسین اپنے اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہوئے ۔ بنچ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا وجہ تھی کہ خدیجہ صدیقی اور اس کی چھوٹی بہن نے پوری دنیا چھوڑ کر ملزم شاہ حسین پر الزام لگایا بنچ کے استفسار پر بتایا گیا ہے خدیجہ صدیقی اور شاہ حسین دونوں ہی قانون کے طالبعلم ہیں۔

(جاری ہے)

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نشاندہی کی کہ وقوعہ دن کے وقت ہوا رات ہوتی تو شک کی گنجائش باقی تھی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر شاہ حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کورٹ میں ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی ڈی این اے رپورٹ نہیں ہے۔خدیجہ صدیقی کو میڈیکل بورڈ نے چار بار بلایا پر وہ پیش نہیں ہوئی۔اگر وہ سچی ہیں تو کیوں نہیں پیش ہوئیں۔ سوشل میڈیا پر ہر کوئی تجزیہ کار بنا ہوا ہے ۔ پہلے دن بارہ زخم تھے بعد میں مزید بارہ ایڈ کر دیئے گئے۔

میڈیا یکطرفہ کہانی چلا رہا ہے ۔ پورا میڈیا اور سیاستدان خدیجہ کے ساتھ ہیں ۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں ایک وکیل کا بیٹا ہوں۔شاہ حسین کے والد تنویر ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گھر کے ملازم کو مدعی بنا دیا گیا اس کیس میں آج اسے بھی پیچھے کر دیا گیا۔ آج خدیجہ نے درخواست کی کہ مدعی کی جگہ مجھے مدعی بنایا جائے۔ آج سپریم کورٹ نے دو ماہ کا ٹائم دیا ہے۔