نیب کی طرف سے تھری جی اور فور جی لائسنس اجراء کیس

ملوث سابق وزراء اور دیگر حکام کی بدعنوانیوں کے مزید دستاویزی ثبوت مل گئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار،سابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمن،سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ اور ممبر ٹیلی کام شبیر احمد نے کک بیک دینے والی پارٹیوں سے رابطوں اور کمیشن طے کرنے کیلئے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مجموعی طور پر 211 سے زائد غیر ملکی دورے کئے، ایف آئی اے رپورٹ

بدھ جون 20:50

نیب کی طرف سے تھری جی اور فور جی لائسنس اجراء کیس
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) نیب کی طرف سے تھری جی اور فور جی لائسنس اجراء کیس میں ملوث سابق وزراء اور دیگر حکام کی بدعنوانیوں کے مزید دستاویزی ثبوت مل گئے ہیں۔ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار،،سابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمن،سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ اور ممبر ٹیلی کام شبیر احمد نے کک بیک دینے والی پارٹیوں سے رابطوں اور کمیشن طے کرنے کیلئے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران مجموعی طور پر 211 سے زائد غیر ملکی دورے کئے۔

ان دوروں پر مجموعی طور پر10کروڑ 55لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی۔نیب نے ایف آئی اے کے ذریعے مذکورہ چاروں ملزمان کی سفری تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور جلد چاروں ملزمان کو شکنجے میں کس لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

ایف آئی اے کی طرف سے نیب کو جمع کروائی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دورے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کئے جو اگست2013ء سے اکتوبر2017ء تک جاری رہے۔

اسحاق ڈار نے بطور وزیرخزانہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد یورپ،،،امریکہ سمیت دوبئی اور دیگر ایشیائی ممالک کی56دورے کئے۔تھری جی فورجی لائسنس اجراء کے غیر قانونی عمل میں ملوث دوسری ملزمہ وزیر مملکت انوشے رحمان نے کل33 غیر ملکی دورے کئے،ان کی بھی زیادہ تر منزل برطانیہ،،دوبئی اور دوحہ ہی رہی۔سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ پر الزام ہے کہ انہوں نے تھری جی فور جی لائسنس کے اجراء میں فرنٹ مین کا کردار ادا کیا۔

اسماعیل شاہ نے کل93 غیر ملکی دورے کئے،اسی طرح غیر قانونی عمل میں مکمل معاونت فراہم کرنے والے سابق ممبر ٹیلی کام شبیر احمد خان نی29 غیر ملکی دورے کئے۔ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جرمنی اور پاکستان کی دوہری شہریت کے حامل ہیں جبکہ ممبر ٹیلی کام شبیر احمد خان برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ایف آئی اے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انوشے رحمان نے متعدد بار نئی دہلی کے بھی دورے کئے جن کے مقاصد کا فی الحال علم نہیں۔نیب نے ٹھوس دستاویزی ثبوت ملنے کے بعد چاروں ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہی۔