مقبوضہ کشمیر، سرجان برکاتی کو عدالتی احکامات کے باوجود رہا نہیں کیا جارہا، اہلخانہ

بدھ جون 20:53

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں 2016ء کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران اپنے مخصوص اندازمیں نعرہ بازی اور شعلہ بیانی کی وجہ سے عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے سرجان برکاتی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو عدالت کی طرف سے کاالعدم قراردیے جانے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرجان برکاتی یکم اکتوبر 2016ء سے جیل میں نظربند ہیں۔

انکی اہلیہ شبروزہ نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت ان پر لاگو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو تین بار کالعدم قراردے چکی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں جھوٹے کیسوںمیں جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکاتی اپنی رہائی کے لیے ہمیں سیاسی یا سرکاری سفارش کرانے کی اجازت نہیں دیتے بلکہ ہمیں مضبوط رہنے اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کے لیے کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ برکاتی کی نظربندی سے ان کے دونوں بچوں صغریٰ اور آذان کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے جوہروقت پریشان رہتے ہیںاور مجھے زیادہ تروقت ان کے ساتھ گزانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں بچے ہمیشہ اپنے والد کے پاس جانے کی ضد کرتے ہیں لیکن یہ آسان نہیں ہے۔ آذان جس کی عمر سات سال ہے اکثر رات کو نیند سے جاگ کرروتا ہے۔ صغریٰ نے اپنے والدکی درازی عمر اور جیل کی صورتحال پر دو نظمیں لکھی ہیں۔ صغریٰ کا کہنا ہے کہ جب جیل میں میرے والد کے سات ماہ مکمل ہوگئے تو میں نے پہلی نظم اور اس کے کچھ عرصہ بعد دوسری نظم لکھی۔یہ میرے والد کے لیے میری محبت ہے اور جب مجھے ان کی یاد آتی ہے تو میںیہ نظمیں پڑھتی ہوں جس سے مجھے مضبوطی ملتی ہے۔