جسٹس قاضی فائزکے شیخ رشید کیس میں عدالتی فیصلے پراہم سوالات

چیف جسٹس سپریم کورٹ ان سوالات پرفل کورٹ بنچ تشکیل دیں،پاناما کیس میں قرارعدالتی ڈیکلریشن نااہلی کیلئے ضروری ہے، قانونی بے یقینی سےانتخابی عمل کی ساکھ کونقصان ہوسکتا ہے،تاثرختم کرنا ہوگا کہ مختلف لوگوں کیساتھ مختلف سلوک ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزکا اختلافی نوٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرا بدھ جون 18:56

جسٹس قاضی فائزکے شیخ رشید کیس میں عدالتی فیصلے پراہم سوالات
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) : سپریم کورٹ کےجسٹس قاضی فائز عیسٰی نے شیخ رشید کو نااہل کیے بغیر اپنے فیصلے میں متعدد سوالات اٹھا دئے ہیں،انہوں نے اپنے 27صفحاتی اختلافی نوٹ لکھا ہے کہ پانامہ کیس میں قرارعدالتی ڈیکلریشن نااہلی کیلئےضروری ہے،،چیف جسٹس سپریم کورٹ ان سوالات پرفل کورٹ بنچ تشکیل دیں،قانونی بے یقینی سےانتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان ہوسکتا ہے،تاثرختم کرنا ہوگا کہ مختلف لوگوں کیساتھ مختلف سلوک ہوتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے شیخ رشید احمد کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ ن کے رہنما شکیل اعوان کی درخواست پر27  صفحات پر مشتمل اقلیتی فیصلہ تحریر کیا ہے جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سات سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا کاغذات نامزدگی میں ہرغلط بیانی کا نتیجہ نااہلی ہے؟ کیا آرٹیکل 225 انتخابی تنازعات میں آرٹیکل 184/3 کا اطلاق ہوسکتا ہے؟ کیا 184/3 میں آرٹیکل 62-1ایف کے تحت نااہل کیا جاسکتا ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 62/1ایف کے میں کورٹ آف لاء کے ذکر میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے؟ کیا عدالتی کاروائی کے دوران ظاہر ہونے والی غلط بیانی کو نااہلی کے لیے زیر غور لایا جاسکتا ہے؟ کیا کسی شخص کی انتخابی عذر داری کو عوامی مفاد کا معاملہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا معاملہ عوامی مفاد کا ہو توشواہد فراہم سے متعلق قوانین کا اطلاق ہوگا؟ غلط بیانی پر نااہلی کی مدت تاحیات ہوگی یا آئندہ الیکشن تک ہوگی؟ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ یہی سوالات اسحاق خان خاکوانی کے فیصلے میں بھی اٹھائے گیے لیکن ان سوالات کے جواب کافی عرصے سے نہیں آئے۔

معاملہ کے حتمی حل کے لیے ان سوالوں کے جواب میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان سوالات کے ذریعے آئین اور روپا قوانین کی تشریح ہونی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرلز ان سوالات کے جوابات دیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان ان سوالات پر فل کورٹ تشکیل دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پانامہ کیس میں قرار دیا گیا نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلریشن ضروری ہے۔

آرٹیکل 62/1 ایف میں لفظ متعلقہ عدالت تحریر کیا گیا ہے۔ متعلقہ عدالت میں سپریم کورٹ شامل نہیں ہے۔ کیا آرٹیکل 184/3 کا استمعال کر کے کسی کو 62/1 ایف کے تحت نااہل کیا جاسکتا ہے؟ آئین کا آرٹیکل 225 انتخابی تنازعات کے لیے مخصوص ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ کیا انتخابی تنازعات کو عوامی اہمیت کی کٹیگری میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ انتخابی تنازعات کے حوالے سے مختلف عدالتی بینچوں نے اپنے مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملہ کے جلد حل کی ضرورت ہے، اقلیتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانونی بے یقینی سے انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس تاثر ختم کرنا چاہیے کہ مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف سلوک ہوتا ہے؟

Your Thoughts and Comments