پرویزمشرف کا 14 جون کوسپریم کورٹ پاکستان میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ

بدھ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر کو کل تک ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا

muhammad ali محمد علی بدھ جون 18:59

پرویزمشرف کا 14 جون کوسپریم کورٹ پاکستان میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 جون 2018ء) پرویزمشرف نے 14 جون کوسپریم کورٹ پاکستان میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر کو کل تک ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر ردعمل دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر کو کل تک ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دی گئی ہے۔ تاہم پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کا حکم نامہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ پرویزمشرف نے 14 جون کوسپریم کورٹ پاکستان میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدر مملکت و آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لئے کل (جمعرات ) دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف خود کو کمانڈو کہتے ہیں ،سیاستدانوں کی طرح میں آرہا ہوں کی گردان مت کریں،واپس آکر قانون،عوام اورعدلیہ کا سامنا کریں۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کی۔۔سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسترد کردیا گیا تھا، عدالت نے ان کے موکل کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا، لہٰذا پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی بحال کیے جائیں۔

وکیل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ان کے موکل بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے کیا یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی نہ کی جائی ۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کی واپسی کے لیے ان کی شرائط کی پابند نہیں ہے، پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف وطن واپس آئیں، انہیں تحفظ دیں گے لیکن لکھ کر ضمانت دینے کے پابند نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں تو آ کر دکھائیں، سیاستدانوں کی طرح میں آرہا ہوں کی گردان مت کریں۔چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف کو کس بات کا تحفظ چاہیے، وہ کس خوف میں مبتلا ہیں، وہ خود کو کمانڈو کہتے ہیں تو اتنا بڑا کمانڈو خوف کیسے کھا گیا، مشرف تو کہتے تھے کہ وہ کئی مرتبہ موت سے بچے لیکن خوف نہیں کھایا۔۔پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ سابق صدر کو رعشہ کی بیماری ہے میڈیکل بورڈ ہونا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف ایئر ایمبولینس میں آجائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ مشرف کو اگر رعشہ کا مسئلہ ہے تو انتخابات میں کیسے کمال دکھائیں گے، سابق صدر واپس آئیں قانون،عوام اورعدلیہ کا سامنا کریں۔اس بات کا جائزہ عدالت لے گی کہ مشرف کو واپس جانے کی اجازت کب دینی ہے اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنا ہے یہ نہیں، پرویز مشرف آئیں اور غداری کے مقدمے کا سامنا کریں۔

سابق صدر کے بیرون ملک جانے کے معاملے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثٓر نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی نہیں دی، یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی تھی اور حکومت نے ہی ان کا نام ای سی ایل سے نکالا تھا۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واضح کرتا ہوں کہ یہ اجازت حکومت کی جانب سے دی گئی، سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر عدالت نے عدالت نے پرویز مشرف کو وطن واپس آنے کے لیے آج ( جمعرات ) دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کل آجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔اگر اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو پرویز مشرف کی درخواست کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی۔