’ستوری دً پختونخوا ‘‘ اور ’’ روخانہ پختونخوا پروگرام‘‘کا دوبارہ آغاز مشن ہو گا، سردار حسین بابک

کمیونٹی کے اشتراک سے والدین ،اساتذہ کونسلز کے مالی اور انتظامی اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا، رہنماء اے این پی

بدھ جون 21:05

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پی کے 22سے نامزد امیدوار سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد تعلیم کو دوبارہ ترجیحی بنیادوں پر عام کرنے کیلئے عمل اقدامات اٹھائے جائیں گے اور ’’ستوری دً پختونخوا ‘‘ اور ’’ روخانہ پختونخوا پروگرام‘‘ کا دوبارہ آغاز کریں گے ، گاؤں چینگلئی پی کی22بونیر میں ایک انتخابی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم کا فروغ ترجیح رہے گی اور کمیونٹی کے اشتراک سے والدین ،اساتذہ کونسلز کے مالی اور انتظامی اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر اور مستقل بنایا جائے گا،تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے خطیر فنڈز خرچ کئے جائیں گے، سردار حسین بابک نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں جدید دور کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تبدیلی لائی جائے گی جبکہ بنیادی تعلیم مادری زبان میں رائج کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ اے این پی ماضی میں بھی اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور دوبارہ اقتدار میں آ کر اپنے گزشتہ دور حکومت میں قائم ریجنل لینگویجز اتھارٹی کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا،انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا اور اس پر خصوصی توجہ دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اساتذہ کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دیا ہے اور اساتذہ کی تربیت اور ٹیچنگ سکل بڑھانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے ،تعلیمی اداروں میں کھیل کود کے ساتھ تمام ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع میں ہائیر ایجوکیشن اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروگ دینے کیلئے غریب بچوں اور بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ، انہوں نے یاد دلایا کہ اے این پی اپنی سابق حکومت کی طرح تعلیم کی ترقی،فروغ اور صوبے کے کونے کونے میں تعلیم کی شمع روشن کرنے کیلئے عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے گی، اس موقع پر ضلعی صدر محمد کریم بابک، حاجی رؤف خان ،فضل الٰہی خان اور حضرت علی نے بھی خطاب کیا ۔