برطانیہ ،ْمسلم خاتون کا دفاع بھارتی نوجوان کو مہنگا پڑگیا

28سالہ ریکیش ایڈوانی پر برطانوی نسل پرستوں نے حملہ بھی کیا اور ’بریگزٹ، اپنے گھر واپس جاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے

بدھ جون 21:12

کیمبرج(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) برطانیہ کی کاؤنٹی کیمبرج میں بھارتی نژاد برطانوی طالبِ علم کو باحجاب مسلم خاتون کا دفاع کرنے پر نسل پرستوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔۔بھارتی ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 28 سالہ ریکیش ایڈوانی پر برطانوی نسل پرستوں نے حملہ بھی کیا اور ’بریگزٹ، اپنے گھر واپس جاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔

ٹائمز آف انڈیا نے کیمبرج نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریکیش ایڈوانی کیمبرج ہسپتال میں ایک برطانوی نسل پرست کے ساتھ کھڑے تھے کہ اچانک اس شخص نے باحجاب مسلم خاتون پر نازیبا الفاظ کی بوچھاڑ کردی، جس کا بھارتی نڑاد برطانوی شہری نے دفاع کیا، جس پر اسے بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق ریکیش ایڈوانی کو نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا گیا، انہیں اپنی آواز دھیمی رکھنے کا کہا جاتا رہا اور ان کے خلاف’واپس اپنے گھر جاؤ‘ کے نعرے لگائے جاتے رہے۔

(جاری ہے)

ریکیش ایڈوانی نے پولیس کو رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نفرت کا نشانہ بنایا گیا اور میں یہ یقین نہیں کرسکتا کہ 2018 میں بھی کوئی اتنا تعصب کا شکار ہے۔ کوئی بھی عقل مند شخص غلط بات بھی برداشت کرلیتا لیکن نسل پرست افراد ان کے ساتھ غیر ضروری طور پر جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔اس نے بتایا کہ ہسپتال میں باحجاب خاتون کے خلاف نازیبا الفاظ کا دفاع کرنے والے وہ واحد شخص تھے، اس بات کا دکھ ہے کہ وہاں موجود کسی بھی شخص نے مسلم خاتون کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔

ریکیش ایڈوانی نے بتایا کہ میں نے جب پولیس کو بلانے کے لیے کہا تو لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے اور مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید وہ لوگ کسی چیز سے دھمکیاں دینے والے شخص کو ڈرائیں گے تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

متعلقہ عنوان :