ضلع سجاول میں قومی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ جاری

بدھ جون 21:17

سجاول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) ضلع بھرمیں قومی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستوں کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد جانچ پڑتال کا مرحلہ جاری ہے ، مختلف امیدواروں کی جانب سے فارم جمع کرائے گئے ہیں تاہم پارٹی ٹکٹ نہ ہونے سے حتمی امیدوار سامنے نہ آسکے ہیں ، سجاول ضلع کی ایک قومی این اے دوسو اکتیس اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں پی ایس پچھتر اور پی ایس چھہترہیں ، سابقہ الیکشن میں پی پی کے مقابلے میں آزاد الیکشن میں شیرازی گروپ نے تینوں سیٹیں جیتیں تھیں جن میں سے محمد علی ملکانی دوبارہ پی پی میں شامل ہوگئے اور ان کو وزارتوں کے علاوہ پی پی کی ضلعی صدارت بھی دی گئی ، پی ایس چھہہترسے اس دفعہ پی پی کے امیدوار ہیں ،، گذشتہ الیکشن میں باقی سیٹوں کے ساتھ شیرازی گروپ نے پی ایم ایل این جوائن کی تھی ، حکومت کے آخری ایام میں اور میاں نواز شریف کے نااھل ہونے کے بعد شیرازی گروپ کے ایم این اے ایاز شیرازی کو وزیر مملکت برائے فوڈ اینڈ سیکورٹی کا قلمدان دیاگیا اور ان کی منسٹری کے ماتحت ادارے پلانٹ پروٹیکشن کی جانب سے اعتراضات پر ملک بھرمیں چھالیہ سوپاری کی بحران پیداہوا،ذرائع کا کہناہے کہ بیرون ملک سے آنے والے چھالیہ کے ایک ہزار کنٹینر پورٹ پر روکے گئے اور ان سے ٹیکس کی مدمیں حکومت کو پچیس ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، چھالیہ سے منسلک کاروبار تباہ ہوگیا،چھالیہ کی اسمگلنگ ہوئی اور قیمت دس گناسے بھی زیادہ ہوگئی ، چھالیہ کے چندماہ کے بحران میں اربوں روپے کی کمیشنوں کی بازگشت سنائی گئی ، حکومت ختم ہوتے ہی شیرازی گروپ نے اپنی وفاداری تبدیل کرکے پی پی جوائن کرلی اور پی پی کی جانب سے شیرازی گروپ کو ٹکٹ جاری کرنے کے اعلان کئے گئے ہیں ،علاقے میں پی ایم ایل این کا صفایاہوچکاہے ،سابق وزیرایازشاہ شیرازی اب این اے دوسواکتیس سے پی پی کے امیدوار ہوں گے ، جبکہ شاہ حسین شیرازی پی ایس پچھہترسے پی پی کے امیدوار ہوں گے، پی پی قیادت کی جانب سے سیاسی حریفوں کو پارٹی میں شامل کرکے ٹکٹ دینے پر اندرونی انتشار پایا جاتاہے