پراجیکٹ شی کین کے تحت 6یونیورسٹیوں کی 1000 سے زائد طالبات کو پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت فراہم کی گئی ہے ،عترت اسد

بدھ جون 21:22

مردان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) ڈائریکٹر پروگرام شی کین اور ادارہ برائے سماجی تعلیم و ترقی عترت اسدنے کہا کہ ادارہ برائے سماجی تعلیم و ترقی نے ایمبیسڈرز فنڈز پروگرام، یو ایس آئی ڈی کے تعاون سے اپنے پراجیکٹ شی کین کامیابی سے عملدرآمد کیا،اس پراجیکٹ کے ذریعے پنجاب،، خیبر پختونخوا ، گلگت اور آزاد کشمیر کی چھ یونیورسٹیوں میں 1000 سے زائد طالبات کو پیشہ ورانہ ترقی اور اپنا کاروبار شروع کرنے کی تعلیم و ٹریننگ فراہم کی گئی ہے ، ادارہ برائے سماجی تعلیم و ترقی کا پراگرام شی کین خواتین، خصوصا یونیورسٹی طالبات کو بااختیار بنانے کی تربیت فراہم کرتا ہے ۔

انہیں کاروباری اور پیشہ ورانہ کرئیر کو منتخب کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مبشر اکرام بٹ نے بتایا کہ "ہم ایک پرعظم تنظیم ہیں اور اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی رسمی معشیت میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پاکستان اقتصادی ترقی کے خواب کو پورا کرنا ناممکن ہے۔

(جاری ہے)

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر پروگرام ادارہ برائے سماجی تعلیم و ترقی مس عترت اسد کا کہنا تھا کہ یہ بہترین وقت ہے کہ خواتین اقتصادی طور پر سامنے آئیں ،،پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

'ہماری خواتین مضبوط، محنتی اور انتہائی قابل ہیں، ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان کا ہاتھ پکڑیں اور نوجوان خواہش مند خواتین کے لیے سازگار پیشہ ورانہ ماحول قائم کریں۔"پروگرام شی کین کے تحت وومن یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی کالج فار وومن، مردان؛ شہید بے نظیر بٹھو وومن یونورسٹی، پشاور؛ فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی، راولپنڈی؛ وومن یونیورسٹی باغ اور قراقرم یونیورسٹی، گلگت میں 1000 سے زائد طالبات کو محض چھ ماہ کی قلیل مدت میں پیشہ ورانہ ترقی اور اپنا کاروبار شروع کرنے کی تربیت دی گئی۔

ٹریننگ کی خدمات معروف معیشت دان اور پروفیسر ڈاکٹر عارف سلیم نے ادا کیں جبکہ تمام جامعات کے اوآر آئی سی ڈیپارٹمنٹس نے ناصرف ٹریننگ کروانے میں مدد فراہم کی بلکہ شی کین پروگرام کے تحت باہمی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کیے۔پروگرام کے تحت تربیتی مواد اور لٹریچر بھی جاری کیا گیا۔ قراقرم یونیورسٹی کے طالبہ روشنہ بیگ کا کہنا تھا کہ، "ٹریننگ کے ایسے مواقع ہماری تعلیم و تربیت کا مستقل حصہ ہونے چائہیے کیونکہ یہ ہماری تعلیم کے لیے عملی اور پیشہ ورانہ نقطہ نظر فراہم کرتا ہے۔

" پروگرام کے دیگر شرکاء نے بھی سرکاری حکام سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی منافع اور غیر منافع بخش تنظیموں کیلیے کام کرنے کے ماحول کو آسان بنائے۔ ریاست اور معاشرے کو باہمی تعاون سے پاکستان کی ترقی کیلیے کام کرنا ہوگا اور شی کین ایک ایسی ہی کاوش ہے جس کی حمایت کی جانی چاہیں ۔