غلنئی کے گرد و نواح میں پانی کی قلت، فی ٹینکر 2 ہزار 5 سو تک پہنچ گیا

بدھ جون 20:20

مہمند ایجنسی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) غلنئی کے گرد و نواح میں پانی کی قلت،، پانی کی فی ٹینکر 2 ہزار 5 سو تک پہنچ گیا، عوام پانی کے بوند بوند کو ترس رہے ہیں،سرکاری پانی پائپ لائن سے غیر قانونی کنکشن پر 5 افراد گرفتار، سرکاری ٹینکروں کے ڈرائیوروں کی پٹائی،ٹینکر ڈرائیور مٹھی گرم کرنے کے بغیر پانی نہیں دیتے ہیں،عوام کا الزام، محکمہ پبلک ہیلتھ پانی کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بائوجود نتیجہ صفر ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع مہمند میں گزشتہ ایک ہفتے سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے،میاں منڈی ٹیوب ویلوں سے بلیک پر پانی کی ترسیل جاری ہے۔ سرکاری پانی کے پائپ لائن سے غیر قانونی کنکشن پر تحصیلدار شکیل برکی نے پانچ افراد کو گرفتار کئے۔ غلنئی سول کالونی میں رہائش پذیر لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ غلنئی کے گرد و نواح میں پینے کا پانی ناپید ہو گیا ہے۔

جس کی وجہ سے پانی کی فی ٹینکرکی قیمت 25 سو روپے تک پہنچ گیا ہے آفسوس کی بات یہ ہے کہ اتنی بھاری قیمت دینے کے بائوجود بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔دوسری طرف اتنی بھاری قیمت پر پانی خریدنا غریب آدمی کی بس کی بات نہیں۔ سرکاری ٹینکروں کے ڈرائیوروں کا غیر قانونی طور پر پانی فروخت کرنے پر عوام نے اُن کی پٹائی کی۔ تحصیلدار حلیمزئی نے واقعہ کا فوری نوٹس لیکر پانی چوری کرنے والوں کو فرفتار کرلیا اور حکم دیا کہ اگر سرکاری ٹینکر ڈرائیوروں نے کسی کو غیر قانونی طور پر یا بغیر نمبر کا کسی کو پانی دیا تو فوری طور پر ہمارے ساتھ رپورٹ درج کریں۔ تاکہ اُن کے خلاف کاروائی کی جائے۔

متعلقہ عنوان :