پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم کا عام انتخابات میں اپنی اپنی کامیابی کے دعوے ، انتخابی معرکہ میں ایک دوسرے کوٹف ٹائم دینے کا دعویٰ

بدھ جون 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) پیپلزپارٹی اورایم کیو ایم کے رہنمائوں نے عام انتخابات میں اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کرتے ہوئے انتخابی معرکہ میں ایک دوسرے کوٹف ٹائم دینے کا دعوی کیا ہے ایم کیو ایم کی کشورزہرا اوردیوان چند چائولہ کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی خود کو سندھ کی واحد رولنگ پارٹی سمجھنے کا خیال دل سے نکال دے سعید غنی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کا کوئی مد مقابل نہیں ایم کیو ایم کے دھڑے اگر یکجا ہوگئے تو پھر ایم کیوا ایم سے مقابلہ ہوگا ۔

2018 کے الیکشن میں کراچی سے پیپلزپارٹی کو ہی کامیابی ملے گی ۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی کشورزہرا اوردیوان چند چائولہ نے کہاکہ ہم نے پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دیا ہے اورسندھ میں ہر جگہ سے پیپلز پارٹی کے مخالف امیدوار کھڑے کیے ہیں، جیت ہو یاہار اس سے فرق نہیں پڑتا ،اگر ہارے بھی تو ایسے ہاریں گے کہ پیپلز پارٹی یاد رکھے گی ،،ایم کیو ایم کی کشور زہرہ نے حلقہ بندی کے حوالے سے تحفظات کا بھی اظہارکیا اورکہاکہ عوام اب بھی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی کے سعید غنی نے کہاکہ جب یہ عروج پر ہوتے ہیں تب صوبے کی بات نہیں کرتے نہ ہی اردو بولنے والے وزیر اعلی کی بات کرتے ہیں لیکن جب لوگ انہیں مسترد کرتے ہیں پھر اس طرح کے نعرے لگاتے ہیں ۔۔انتخابات میں کراچی کے لوگ بلاول بھٹو کا ساتھ دیں گے۔خواتین کی مخصوص نشستوں پرکاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران بعض خواتین ارکان نے الیکشن کمیشن کے دفترپراحتجاج کیا انہیں صوبائی الیکشن کمشنرکے دفترسے یہ کہہ کرباہرجانے کے لیے کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے نام ان کی پارٹی کی طر ف سے بھجوائی جانے والی ترجیحی فہرست میں نہیں ہے وہ الیکشن کمیشن کی بجائے اپنی پارٹی سے رابطہ کریں بعض خواتین رہنماں کا کہنا تھا کہ ہمیں اسکروٹنی کے لئے بلایا گیا ہے اورہم سندھ کے مختلف علاقوں سے یہاں آئے ہیں اب صوبائی الیکشنر کمشنر ہمیں باہر نکالنے کا حکم دیا یہ زیادتی ہے ۔