میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے پیچھے فوج ہے،پرویز مشرف

فوج کی اپنی پسند اور نا پسند ہوتی ہے،سابق صدر

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 22:05

میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے پیچھے فوج ہے،پرویز مشرف
دبئی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-13 جون 2018ء) ::عمران خان کے پیچھے فوج ہے یا نہیں ،سابق صدر مشرف بھی بول پڑے۔سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ عمران خان کے پیچھے فوج ہے۔۔فوج کی اپنی پسند اور نا پسند ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے اندر اندر تحریک انصاف نے جس طرح سے پاکستانی سیاست میں قدم جمائے ہیں اور اپنی سیاسی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کم ہی مثال ملتی ہے۔

پانامہ لیکس کیس سے شروع ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی فتوحات کا شروع ہونے والا سفر کہیں بھی تھمتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔اس دوران جس طرح عمران خان کے سیاسی لہجے اور طرز عمل میں پختگی آئی ہے وہ بھی قابل ذکر ہے۔ایک جانب تحریک انصاف کی مضبوط ہوتی ہوئی سیاسی پوزیشن تو دوسری جانب اسکی حریف جماعتوں کی گرتی ہوئی ساکھ نے تحریک انصاف کو پاکستانی سیاست کی چوٹی کی جماعت بنا دیا ہے۔

گزشتہ ایک سال میں پاکستان تحریک انصاف میں دیگر جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ہے جن میں رضا حیات، ندیم افضل چن،،فردوس عاشق اعوان اور بڑے بڑے انتخابات جیتنے والے نام شامل ہیں۔۔پنجاب کے چوٹی کے سیاستدانوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اشارہ ہے کہ پنجاب مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

اس حوالے سے بہت سے ناقدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ کامیابیوں کے پیچھے فوج ہے اور پاکستان تحریک انصاف جو کچھ کر رہی ہے اس کے پس پردہ خفیہ قوتیں ہیں۔۔عمران خان کے مخالفین ڈنکے کی چوٹ پر بار بار ایمپائرکا ذکر کرتے ہیں اور ایمپائر سے انکی مراد پاکستان کی مقتدر قوتیں ہیں۔۔عمران خان کے پیچھے فوج ہے یا نہیں ،سابق صدر مشرف بھی بول پڑے۔

خیلج ٹائمز کو انٹرویودیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ فوج عمران خان کی حمایت کر رہی ہے۔۔فوج کی اپنی پسند ناپسند ہے۔انکا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کی حفاظت کی ہے۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔واجپائی اور من موہن پاکستان کے ساتھ امن میں مخلص تھے۔

Your Thoughts and Comments